Il-lum tibda Il-Hames Laqgha Internazzjonali
الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۳۷
آدمی اور ضیات سے۔
مولا نا محمود حسن صاحب اور مولانا حسین احمد مدنی کو گرفتاری کے بعد مالٹا لایا گیا تھا اور ساڑھے تین سال تک ان کو یہاں رکھا گیا۔ ان پر انگریز کے خلاف باغیانہ سازش کا الزام تھا۔ ذاتی طور پر مجھے اس واقعہ سے زیادہ دلچسپی نہیں۔ کیوں کہ میرے نزدیک یہ محض ایک سیاسی واقعہ تھانہ کہ کوئی اسلامی واقعہ۔ تا ہم وہ ہماری تاریخ کا ایک جزء ہے۔ اس بنا پر مجھے تلاش تھی کہ میں اس کے بارہ میں ضروری تاریخی معلومات یہاں سے حاصل کروں۔
وقت کی تنگی کے باوجود، مجموعی طور پر میں نے اس کے لیے پورا ایک دن گزانہ۔ گاڑی لے کر مالٹا کے مختلف حصوں میں سفر کرتا رہا۔ پبلک لائبریری ۔ نیشنل لائبریری اور کئی دوسری لائبریریاں اور میوزیم دیکھے۔ مگر کہیں کسی ریکارڈ کا سراغ نہ ملا۔ یہاں کے نیشنل آرکائیوز میں ممکن ہے اس سلسلہ کا کوئی ریکارڈ موجود ہو۔ مگر اس کا علم مجھے آخر میں ہوا۔ اور وہ ہاں جانے کا وقت میں نکال نہ سکا۔ البتہ ٹیلی فون پر ان کو تفصیلات درج کرا دی گئیں۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ تلاش کر کے بذریعہ ڈاک مطلع کریں گے۔ تاہم اس تمام دوڑ دھوپ اور تلاش کا ایک فائدہ ہوا۔ وہ یہ کہ اس مخصوص معاملہ سے متعلق اصل آدمی کا نام و پتہ معلوم ہو گیا۔ یہ مالٹا کے آرکائیوز کا انچارج تھا۔ اس سے ٹیلی فون پر بات کی گئی۔ اس نے کہا کہ ہمارے آرکائیوز میں برٹش دور کے بہت سے آثار ہیں۔ تاہم ان کی ترتیب ابھی باقاعدہ طور پرقائم نہیں ہو سکی ہے۔ عین ممکن ہے کہ آپ کا مطلوبہ ریکارڈ اس میں موجود ہو۔ مگر اس کو تلاش کرنا پڑے گا۔ ذیل میں ان صاحب کا پتہ درج ہے کوئی صاحب چاہیں تو ان سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں؛ Mr. J. Caruana, National Archives, Santo Spirito, Rabat, Malta. Tel. 00-356-459863 ہم کو مالٹا کے اس خاص مکان کی تلاش تھی جہاں دونوں صاحبان کو قید کر کے رکھا گیا تھا۔ اس کے لئے کئی پرانی عمارتیں دیکھیں ۔ جس عمارت کے بارہ میں بھی لوگوں نے گمان ظاہر کیا اس کو جاکر دیکھا۔ مگر عمارت کا سراغ نہ مل سکا۔ تاہم جہاں بھی ہم گئے وہاں کے لوگوں نے انتہائی ہمدردی اور تعاون کا انداز اختیار کیا۔
مولا نا محمود حسن صاحب جامعہ ملیہ کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اگر جامعہ ضروری وسائل فراہم
‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues