Il-lum tibda Il-Hames Laqgha Internazzjonali
الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۳۲
کرے اور اپنے کسی طالب علم کو کم از کم ایک مہینہ کے لئے یہاں بھیجے اور وہ تمام ممکن مقامات پر جا کر مکمل تحقیق کرے تو امید ہے کہ کچھ ریکارڈ حاصل ہو جائے گا۔
اس تلاش و تحقیق سے واپس آتے ہوئے ایک دکان پر نظر پڑی۔ اس کے بورڈ پر پہلی حرفوں میں لکھا ہو تھا: لے جائیے (Take away)۔ آدمی اگر انھیں دو لفظوں کو سب کچھ سمجھ لے تو وہ گمان کرے گا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دکان میں داخل ہوا اور جو چاہے وہاں سے بلا قیمت اٹھا لے جائیے۔ مگر ان الفاظ کا یہ مطلب نہیں۔ ان لکھے ہوئے لفظوں میں کچھ اور الفاظ اپنی طرف سے ملانے پڑیں گے۔ اس کے بعد ہی ان کا مطلب سمجھا جا سکتا ہے۔ مزید الفاظ کو ملانے کے بعد پوری بات یوں ہے: قیمت ادا کرو اور لے جاؤ۔
یہ الفاظ عام طور پر ان دکانوں پر ہوتے ہیں جہاں کھانے کا تیار سامان فروخت ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ہوٹل نہیں ہے جہاں آپ بیٹھ کر کھائیں۔ البتہ یہاں سے کھانے کی چیزیں خرید کر اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ ہر لفظ یا ہر عبارت اس وقت تک نامکمل ہے جب تک آپ اس میں اپنے حصہ کے ضروری الفاظ شامل نہ کریں۔
مالٹا میں ہماری معلومات کے مطابق، اس وقت دو مسجدیں ہیں۔ ایک قدیم مسجد ہے۔ یہ مسجد ترکوں کی بنائی ہوئی ہے۔ قدیم طرز کی کافی بڑی مسجد ہے۔ اس کو ہم صرف باہر سے دیکھ سکے۔ کیوں کہ وہ چاروں طرف سے بند تھی۔ غالباً وہ محکمہ آثار قدیمہ کے زیر انتظام ہے۔ دوسری مسجد نئی ہے۔ یہ لیبیا کے تحت تعمیر شدہ اسلامک سنٹر کی مسجد ہے۔ اس سنٹر میں بظاہر کوئی خاص سرگرمی نظر نہیں آئی۔ البتہ تعمیر کے اعتبار سے وہ کافی بڑا ہے۔ اور اس میں ایک نہایت خوبصورت مسجد ہے۔ اس مسجد میں ہم نے ظہر کی نماز پڑھی۔ مسجد کے بیرونی دروازہ پر ایک عربی کتبہ لگا ہوا ہے اس پر یہ عربی الفاظ درج ہیں: بسم الله وعلى بركة الله : وضع الاخ العقيد معمر القذافي حجر الأساس للمركز الاسلامی بجمهورية مالطا الصديقة بتاريخ ٢٧ رجب ۱۳۹۸ھ ٢٧ يويو ۱۹۷۸م مالٹا سیاحوں کا شہر ہے۔ یہاں ہر روز کثرت سے ساری دنیا کے سیاح آتے رہتے ہیں جس وقت ہم مذکورہ مرکز میں تھے، اس وقت بھی کچھ سیاح "اسلامک سنٹر" کو دیکھنے کے لئے آئے۔ اگر
‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues