The new name of religion is peace
الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۴۳
کچھ دیر میں صدر مالٹا مسٹر تابن (Censu Tabone) ہال میں آئے اور لوگوں سے ملنے لگے۔ میں ہال کے کنارے کچھ لوگوں کے ساتھ باتیں کر رہا تھا، ایک صاحب نے کہا کہ آپ بھی چلیں، پریذیڈنٹ سے مصافحہ کر لیں۔ مگر میں اپنی جگہ پر کھڑا رہا۔ کچھ دیر کے بعد خود پریذیڈنٹ صاحب میری طرف آئے اور سلام اور مصافحہ کیا۔ وہ ۱۹۸۹ سے مالٹا کے صدر ہیں۔
مذکورہ صدر میرے بارہ میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ یہ صرف ان ملکوں کے عام رواج کی بات ہے کہ وہ اس طرح سادہ طور پر ہر ایک سے ملاقات کر رہے تھے۔ اسی قسم کا تجربہ مجھے مالٹا ایئر پورٹ پر بھی ہوا تھا۔ ہم لوگ ایئر پورٹ کے جس کمرہ میں بٹھائے گئے، وہاں پہلے سے مالٹا کے ایک وزیر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم کو دیکھ کر وہ بلا تکلف فوراً اٹھ گئے اور کہا کہ آپ لوگ یہاں اطمینان سے بیٹھیں، میں دوسرے کمرہ میں چلا جاتا ہوں۔
کانفرنس کی تنظیمی ہیئت کے صدر پروفیسر ریکا رڈی (Andrea Riccardi) ہیں۔ وہ اطالوی اور فرانسیسی زبانیں جانتے ہیں۔ ان سے ترجمان کی مدد سے گفتگو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کے مشن سے واقف ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ مین آف ڈائیلاگ ہیں۔
اس جملہ میں دراصل یہ احساس چھپا ہوا تھا کہ مسلم علماء اکثر اس مزاج کے نہیں ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک عالم سے میری گفتگو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ مسیحیوں کے ساتھ حوار میں داخل ہونا ہمارے لئے غیر مفید ہے۔ کیوں کہ اس حوار میں مسلمان کمزور و فریق ہوتے ہیں جن کو قومی فریق استعمال کرتا ہے ( المسلمون هم الطرف الضعيف يستخدمهم الطرف القوى)
اس کے مقابلہ میں مسیحی حضرات کا انداز زیادہ حوصلہ مندانہ تھا۔ مثلاً ایک عرب عالم نے ان عصری تحدیات (چیلنجز) کا ذکر کیا جو آج مسلمانوں کو درپیش ہیں۔ اس پر ایک مسیحی عالم نے کہا کہ یہ تحدیات صرف اسلامی تحدیات نہیں ہیں بلکہ وہ تمام ادیان کو در پیش ہیں (هذه التحديات ليست تحديات اسلامية فقط بل هي تحديات تواجهها كل الديانات)، ایک مسیحی مقرر نے کہا کہ حضارت اسلامی کا تعلق صرف مسلمانوں سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق مسیحیوں سے بھی ہے۔ حضارت اسلامی کو فروغ دینے میں مسیحی بھی مشترک ہیں۔ انھوں نے بھی اس کے لئے کام کیا ہے۔ البتہ دین ہمارا دوسرا ہے اور مسلمانوں کا دوسرا۔ یوحنا ابراہیم (مسیحی عالم) نے خالص عربی لہجہ میں تقریر
‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues