Al-Risala · August 1992 · page 44

Peace is one of the names of God.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۴۴

کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔ یہ تقریب ۹ اکتوبر کو کانفرنس میں ہوئی۔

کانفرنس میں مسیحی حضرات، ہم لوگوں کو السلام علیکم کے لفظ سے خطاب کرتے تھے اور ان شاء اللہ وغیرہ الفاظ بے تکلف بولتے تھے۔ روم کے ایک مسیحی عالم سے میں نے پوچھا کہ ان شاء اللہ کو اطالوی زبان میں کس طرح کہا جائے گا۔ انھوں نے فوراً ایک کاغذ پر لکھ کر دیا : SE DIO VUOLE ۱۰ اکتوبر کو کانفرنس کا آخری دن تھا۔ صبح کے سیشن میں مختلف لوگوں کی تقریریں ہوئیں۔ ایک مقرر نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں ہر طرف تبدیلی کی بات کی جارہی ہے مگر عملاً تبدیلی نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر شخص دنیا کو بدلنے کی بات کر رہا ہے، کوئی بھی شخص اپنے آپ کو بدلنے کے لئے نہیں سوچتا :

Everyone is thinking to change the world; no one is thinking to 11| صحیفہ اسرائیل، کے چیف ربائی نے اپنی تقریر میں امن کی اہمیت پر بہت زیادہ زور دیا۔ اس نے کہا کہ امن بھی خدا کا ایک نام ہے :

Peace is one of the names of God.

مگر اسی کے ساتھ جب اسرائیل کا ذکر آیا تو اس نے یہ بھی کہا کہ اس سے اس کی مراد صرف موجودہ اسرائیل نہیں ہے بلکہ وہ پورا علاقہ ہے جس کا خدا نے اسرائیل سے اس کی مقدس کتابوں کے مطابق وعدہ کیا ہے دونوں باتوں میں واضح (Not the only Israel but all the promised land)

تضاد ہے۔ مگر جب آدمی کے اندر احتساب خویش کا مادہ نہ ہو تو اس کو اپنے نقائص کی خبر نہیں ہوتی۔ کانفرنس میں جو یہودی علماء اور مسیحی علماء آئے تھے، ان کو میں نے دیکھا کہ وہ بہت اچھی حالت میں ہیں۔ ان کی قوم نے ان کو نہایت اعلیٰ سہولتیں دے رکھی ہیں۔ ان کو اپنی قوم کے اندر عزت بھی حاصل ہے اور ہر قسم کے مادی وسائل بھی۔

میں نے سوچا کہ مذہبی اعتبار سے ہمارے یہاں مسجد کے امام اور مدرسہ کے مولوی کا جو درجہ ہے وہی یہودیوں کے یہاں ربّی کا اور مسیحیوں کے یہاں پادری کا درجہ ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ دوسروں کے یہاں، ان کی مذہبی شخصیت کو جو مقام حاصل ہوتا ہے وہ مقام ہمارے یہاں کی مذہبی شخصیت کو حاصل نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues

Printed page