Al-Risala · January 1992 · page 41

Keep Distance

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۲، صفحہ ۴۱

ماضی میں اور حال میں اس کی بے شمار مثالیں ہیں۔ جب بھی کسی شخص نے اپنی مقررہ حد کو پار کیا، وہ لازمی طور پر برے انجام کا شکار ہوا۔

نیتین والیا ایک ۳ سالہ بچہ ہے۔ وہ اپنے والدین (وجے پال والیا اور سونینتا) کے ساتھ شاہدرہ میں رہتا ہے۔ بچہ کو چڑیا گھر دیکھنے کا شوق تھا۔ اس کے والدین اس کو دہلی کا چڑیا گھر دکھانے کے لیے لے گئے۔ مختلف جانوروں کو دیکھتے ہو‎ئے یہ لوگ وہاں پہنچے جہاں سفید شیر کا پنجرہ ہے۔ وہ شیر اور اس کے بچے کو دیکھنے کے لیے رکے۔ یہاں نیتین ریلنگ کے اندر داخل ہو گیا اور پنجرہ میں اپنا ہاتھ ڈال دیا۔ شیرنی (نیما) نے جھپٹ کر اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے لیا۔ لوگوں نے اس کو لکڑی سے مار کر ہٹایا، مگر اس دوران وہ بچے کا ہاتھ کندھے تک چبا چکی تھی۔ آپریشن کے بعد بچہ زندہ ہے مگر وہ ساری عمر کے لیے اپنے دائیں ہاتھ سے محروم ہو چکا ہے۔

ٹائمس آف انڈیا (۲۱ مارچ ۱۹۸۸) کے رپورٹر کے مطابق، بچہ کے والدین نے اس حادثہ کی ذمہ داری چڑیا گھر کے کارکنوں پر ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت پنجرہ کے پاس کوئی چوکیدار موجود نہ تھا :

The parents claim that there were no gaurds around. اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ جب ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو وہ فوراً اپنے سے باہر کسی کو تلاش کرتے ہیں جس پر حادثہ کی ذمہ داری ڈال سکیں۔ مگر موجودہ دنیا میں اس قسم کی کوشش سراسر بے فائدہ ہے۔ یہاں حادثات سے صرف وہ شخص بچ سکتا ہے جو اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔ جو شخص خود بے قابو ہو جائے وہ لازماً حادثہ سے دوچار ہوگا، خواہ دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے اس نے ڈکشنری کے تمام الفاظ دہرا ڈالے ہوں ۔

چڑیا گھر میں خونخوار جانور کے کٹھہرے سے چار فٹ کے فاصلہ پر ریلنگ (railing) لگی ہوئی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ جانور کے مقابلہ میں آدمی کو ایک محفوظ فاصلہ پر رکھا جائے ۔ اسی طرح زندگی کے ہر موڑ پر ایک ریلنگ کھڑی ہوتی ہے ۔ جو شخص ریلنگ کو حد سمجھ کر وہاں ٹہر جائے وہ محفوظ رہے گا ۔ اور جو شخص ریلنگ کو پار کر جائے ، وہ اپنے آپ کو حادثات سے نہیں بچا سکتا، نہ چڑیا گھر کے اندر اور نہ چڑیا گھر کے باہر۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1992 All issues

Printed page