Al-Risala · January 1992 · page 42

مقابلہ کی ہمت

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۲، صفحہ ۴۲

مقابلہ کی ہمت

جے آرڈی ٹاٹا (J.R.D. Tata) ہندوستان کے چند انتہائی بڑے صنعت کاروں میں سے ہیں۔ بوقت تحریر ان کی عمر ۸۵ سال کی ہے۔ اب بھی وہ ہوائی جہاز چلاتے ہیں اور برف پر اسکیٹنگ (skiing) کرتے ہیں۔ اتنی بڑی عمر میں ان کی اس صحت کا راز کیا ہے، اس کے جواب میں انھوں نے کہا جو چیزیں مجھ کو برابر جوان رکھتی ہیں ان میں سے ایک یہ حقیقت ہے کہ میں خطرات میں جینے کے لیے تیار رہتا ہوں۔ زندگی کو کار آمد بنانے کی خاطر آپ کو رسک لینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ بزنس، کھیل، شادی، ہر چیز میں رسک (ہندوستان ٹائمز ۱۴ جولائی ۱۹۹۱)

انگریزی کا مثل ہے کہ رسک نہیں تو کامیابی بھی نہیں (No risk no gain) یہاں سوال یہ ہے کہ رسک اور خطرات کیوں آدمی کو کامیابی اور ترقی کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسک آدمی کی قوتوں کو جگاتا ہے، وہ ایک معمولی انسان کو غیر معمولی انسان بنا دیتا ہے۔ آدمی اگر خطرات کا سامنا نہ کرے، وہ رسک کی صورتوں سے دور رہے تو وہ سست اور کاہل انسان بن جائے گا۔ اس کی فطری صلاحیتیں خوابیدگی کی حالت میں پڑی رہیں گی۔ وہ ایسا بیج ہو گا جو پھٹا نہیں کہ درخت بنے، وہ ایسا ذخیرہ آب ہو گا جس میں موجیں نہیں اٹھیں جو طوفان کی صورت اختیار کرے۔ مگر جب آدمی کو خطرات پیش آتے ہیں، جب اس کی زندگی رسک کی حالت سے دوچار ہوتی ہے تو اس کی شخصیت کے اندر چھپی ہوئی فطری استعداد جاگ اٹھتی ہے۔ حالات کا دباؤ اس کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ متحرک ہو جائے، وہ اپنی ساری طاقت اپنے کام میں لگا دے۔

ہر آدمی کے اندر اتھاہ صلاحیتیں ہیں۔ مگر یہ صلاحیتیں ابتدائی طور پر سوئی ہوئی ہوتی ہیں۔ وہ کبھی جگائے بغیر نہیں جاگتیں۔ ان صلاحیتوں کو جگانے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ وہ یہ کہ انھیں چیلنج سے سابقہ پیش آئے۔ انھیں خطرات کا سامنا کرنا پڑے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1992 All issues

Printed page