ناکامی میں کامیابی
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۵
ناکامی میں کامیابی
حضرت یوسف علیہ السلام کے دشمنوں نے آپ کو ایک سنسان کنویں میں ڈال دیا۔ بظاہر یہ ہلاکت کا واقعہ تھا۔ مگر عین اس وقت خدا نے حضرت یوسف کو مطلع کیا کہ ہلاکت کے اس کنویں سے تمہارے لئے ایک نئی زندگی برآمد ہوگی۔ قرآن میں ہے کہ جب حضرت یوسف کے دشمنوں نے آپ کو کنویں میں ڈالا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کے پاس وحی بھیجی کہ عنقریب تم ایسی بلندی پر پہنچو گے کہ تمہارے بھائی تمہیں دیکھ کر پہچانیں گے بھی نہیں۔ (یوسف (۱۵) گویا خدا نے حضرت یوسف کے واقعہ کو ظاہری پہلو سے دیکھنے کے بجائے اس کے اندرونی پہلو کے اعتبار سے دیکھا۔ اس کو حال کے اعتبار سے دیکھنے کے بجائے مستقبل کے اعتبار سے دیکھا۔ اس نظر سے دیکھنے میں ساری بات بدل گئی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت حضرت یوسف کو مطلع کیا کہ تمہارا اسوء القصص آئندہ احسن القصص بننے والا ہے۔ جہاں لوگوں نے تمہاری تاریخ ختم کر دینی چاہی تھی وہیں سے تمہاری نئی تاریخ شروع ہو جائے گی۔
ایک حدیث ہے جس کے الفاظ یہ ہیں : اتقوا فراسة المؤمن فانه ينظر بنور الله - مومن کی ہوشیاری سے ڈرو کیوں کہ وہ خدا کے نور سے دیکھتا ہے۔ حضرت یوسف کے واقعہ کا یہ پہلو گو یا اس حدیث کی تشریح ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے نور سے دیکھنے کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے چیزوں کو ان کے اندرونی امکانات کے اعتبار سے دیکھنا۔ جب اس طرح کسی واقعہ کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جو قصہ بظاہر اسوء القصص تھا وہ مستقبل کے اعتبار سے احسن القصص ہے۔ نور خداوندی سے دیکھنے والا ناموافق میں موافق کو دیکھ لیتا ہے۔ وہ تاریک حالات میں روشن حالات کا پتہ لگا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی منصوبہ بندی میں تسخیر کی شان پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی منصوبہ بندی کا مقابلہ وہ لوگ نہیں کر سکتے جو حالات کو صرف ظاہر کے اعتبار سے دیکھنا جانتے ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues