ناکامی میں کامیابی
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۶
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو دیگر اقوام سے مختلف قسم کی تکلیفیں پہنچی ہیں اور پہنچ رہی ہیں۔ یہ بات یقیناً افسوسناک ہے لیکن اگر معاملہ کو صرف اس کے ظاہری پہلو کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ہمیں اس کے سوا کوئی اور کرنے کا کام نظر نہ آئے گا تک۔ مگر کچھ قوموں کو ظالم قرار دے کر ان کے خلاف احتجاج اور شکایت کا طوفان برپا کرتے رہیں۔ بدقسمتی سے موجودہ زمانہ کے مسلمان یہی ایک کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے ابھی تک اس واقعہ کو نور خداوندی سےنہیں دیکھا۔ اگر وہ اس کو نور خداوندی سے دیکھتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ جہاں تاریک پہلو ہے وہاں روشن پہلو بھی موجود ہے۔ جو قصدً بظاہر اُسوہ القصص نظر آتا ہے وہ أحسن القصص میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
یہاں میں انسانی تاریخ کا ایک حوالہ دینا چاہتا ہوں جس کو خصوصیت سے آرنلڈ ٹوائن بی نے ریکارڈ کیا ہے۔ آرنلڈ ٹوائن بی مشہور انگریز مورخ ہے جس کی کتاب اسٹڈی آف ہسٹری اپنے موضوع پر نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔ ٹوائن بی نے اس کتاب میں قدیم وجدید دنیا کی ۲۱ تہذیبوں کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ اس تفصیلی مطالعہ کے بعد اس نے ایک بڑی عجیب بات لکھی ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ میں نے اپنے مطالعہ میں پایا کہ دنیا کی جن قوموں نے کوئی تہذیب پیدا کی وہ اکثر وہ تھیں جو اپنی زندگی میں شکست سے دوچار ہوئیں جنھیں سخت ناموافق حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی قوم کے موافق حالات ہمیشہ اس کے ناموافق حالات کے بطن سے پیدا ہوتے ہیں۔
ٹوائن بی کے اس نظریہ کی ایک واضح مثال جدید تہذیب ہے جو مغربی قوموں کے ذریعہ پیدا ہوئی۔ مغربی قوموں کے عروج سے پہلے دنیا کے بڑے حصہ پر مسلمانوں کا اقتدار تھا۔ مسلمانوں نے اس زمانہ میں شام اور فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ جو مغرب کی مسیحی قوموں کے نزدیک مقدس مقام کی حیثیت رکھتا تھا۔ چنانچہ ان مقدس مقامات کو واپس لینے کے لئے مغرب کی مسیحی قومیں متحدہ طاقت سے مسلم دنیا پر حملہ آور ہوئیں۔ ان جنگوں کو تاریخ میں صلیبی جنگیں (Crusades) کہا جاتا ہے۔ یہ صلیبی جنگیں ۱۰۹۵ء سے ۱۲۰۷ء تک جاری رہیں ۔ یعنی وقفہ وقفہ سے پورے دوسوسال تک ۔ کہ آخر کار مغربی قوموں کو ذلت آمیز شکست
‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues