Al-Risala · September 1992 · page 7

ناکامی میں کامیابی

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۷

ہوئی۔ وہ اپنے مقدس مقامات کو حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوئے۔

مغربی قوموں کی یہی وہ ناکامی ہے جس کے بطن سے جدید تہذیب نکلی۔ جس نے مغربی قوموں کو سارے عالم میں غالب کر دیا۔ صلیبی جنگوں میں شکست کے بعد مغربی قومیں اپنا جنگی حوصلہ کھو چکی تھیں۔ اب انھیں اس کا کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا کہ وہ جنگ کے میدان میں مسلمانوں کو چیلنج کر سکیں۔ ان حالات نے ان کے اندر ایک نیا ذہن ابھارا جس کو ان کے مفکرین نے روحانی کروسیڈ (Spiritual crusades) کا نام دیا ، یعنی غیر حربی میدان میں مقابلہ۔ اب انھوں نے مسلمانوں کے علوم سیکھنے شروع کئے۔ عربی زبان کی علمی کتابیں لاطینی میں ترجمہ کی گئیں ۔ اولاً انھوں نے مسلمانوں کے علوم کو سیکھا۔ اور اس کے بعد اس میں اضافہ کرنا شروع کیا۔

یہ کوششیں کئی سو سال تک جاری رہیں۔ یہاں تک کہ انھوں نے علم و فن کی دنیا میں اتنی ترقی کی کہ تاریخ انسانی کو نئے دور میں داخل کر دیا۔ انھوں نے روایتی دور کی جگہ سائنسی دور پیدا کیا۔ انھوں نے دستکاری نظام کو مشینی نظام میں تبدیل کر دیا۔ وغیرہ اس ترقی کے بعد ان کی طاقت بے پناہ ہو چکی تھی۔ انھوں نے نہ صرف مسلم قوموں کو از سر نو مغلوب کیا، بلکہ ساری دنیا پر براہِ راست یا بالواسطہ انداز میں غلبہ حاصل کر لیا۔ وہ تمام اقوام کے اوپر قائدبن کر کھڑے ہوگئے۔

مغربی اقوام کی یہ عظیم کامیابی ان کی عظیم ناکامی سے برآمد ہوئی۔ صلیبی دور کی شکستوں نے ان کو موجودہ دور کی فتح تک پہنچایا۔

خدا کی اس دنیا میں شکست، بھی فتح کا دروازہ ہے۔ یہاں ناکامی میں بھی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے۔ بشرطیکہ اس کو جان کر اسے استعمال کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues

Printed page