ہجرت کی ضرورت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۹
میں جان و مال کے انشورنس کا مسئلہ بھی تھا۔
مباحثہ کا آغاز کرتے ہوئے کہا گیا کہ موجودہ حالات یہ ہیں کہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہندوستانی مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے اور اقتصادی طور پر ان کو کنگال بنا دینے کی زبردست کوشش ہو رہی ہے۔ یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ فسادات وقتی جھگڑے سے نہیں پھوٹ پڑتے بلکہ مہینوں پہلے سے کی گئی منصوبہ بند تیاریوں سے ہوتے ہیں۔ ان حالات میں کیا ہم بدرجہ مجبوری مسلمانوں کو یہ مشورہ دے سکتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں یا اپنے املاک کا بیمہ کروالیں۔ اور انشورنس کی اسکیموں کا فائدہ اٹھائیں۔ کیوں کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ فساد کے موقع پر ان دکانوں کو نہیں جلایا گیا یا ان اموال کو برباد نہیں کیا گیا جن کا بیمہ کرایا جا چکا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ جان کر کہ مسلمانوں نے اب عام طور پر اپنی جانوں اور اپنی املاک کا بیمہ کرا لیا ہے، انتظامیہ فسادات روکنے کے سلسلہ میں زیادہ چوکس ہو جائے۔
اس مباحثہ کے دوران یاد دلایا گیا کہ 1965 میں مجلس تحقیقات شرعیہ ندوۃ العلماء (لکھنؤ) نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ضرورت شدید کے پیش نظر اگر کوئی شخص اپنی زندگی یا اپنے مال یا اپنی جائداد کا بیمہ کرائے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے۔
رپورٹ کے مطابق علماء کے درمیان طویل، دلچسپ، پرمغز، مفید اور زور دار مباحثہ کے بعد تقریباً طے ہو گیا کہ فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمانوں کو جان و مال کے مسلسل نقصان سے بچانے کے لیے انہیں انشورنس کی اجازت دے دی جائے ۔ پروگرام یہ تھا کہ ۱۲ اگست 1991 کی نشست میں مذکورہ مفہوم کی تجویز پیش کر کے رسمی طور پر اس کو منظور کرا لیا جائے گا۔ مگر عین اس دن حیدر آباد کے ایک مسلم ڈاکٹر وہاں آئے ۔ وہ انشورنس کے قواعد و ضوابط سے متعلق ضروری دستاویزات اپنے ساتھ لے آئے تھے۔ اس میں انھوں نے ایک خاص حصہ کو پہلے ہی سے نشان زد کر دیا تھا جو زیر بحث موضوع سے متعلق تھا۔ ان نشان زد سطروں سے یہ بات مشکوک ہو گئی کہ فسادات کے نتیجہ میں ہلاک ہونے والے افراد کو انشورنس کا فائدہ مل سکے گا۔
ان نشان زد سطروں میں کہا گیا تھا کہ انشورنس کارپوریشن اس بات کی ذمہ دار نہ ہوگی کہ وہ محولہ اے اور بی کے قاعدہ کے تحت کسی شخص کو مقررہ رقم ادا کرے، جب کہ زیر بیمہ شخص کی معذوری یا موت قانون کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہو، یا ان زخموں کے سبب سے ہو جو فسادات، سماجی شورش
‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues