Al-Risala · September 1992 · page 10

تدبیر کی تبدیلی

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱۰

یا بغاوت کے دوران پیش آئیں :

مذکورہ واقعہ سامنے آنے کے بعد ساری صورت حال بدل گئی۔ چنانچہ سیمینار میں شرکت کرنے والے سب حضرات نے یہ رائے دی کہ اس حالت میں انشورنس کے بارہ میں کوئی فیصلہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ چنانچہ اعلان کر دیا گیا کہ اس مسئلہ پر مزید تحقیق کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے جس کی تجویز آئندہ سیمینار میں پیش کی جائے گی۔

1945 سے 1991 تک مسلم رہنما فرقہ وارانہ فسادات کا یہ حل تجویز کرتے رہے کہ مسلمان اپنی جان و مال کا بیمہ کرائیں۔ مگر بیمہ کمپنی پر مسلمانوں کا قبضہ نہیں تھا بلکہ کسی اور کا قبضہ تھا۔ اس نے مسلمانوں کا رجحان دیکھ کر یہ ضابطہ بنا دیا کہ فسادات میں جو ہلاکت ہوگی، بیمہ کمپنی اس کی تلافی کرنے کی ذمہ دار نہ ہوگی۔ غیر کی ایک جنبش قلم سے مسلمانوں کا سارا منصوبہ ڈھ کر رہ گیا۔

تدبیر کی تبدیلی

فرقہ وارانہ فسادات کے مسئلہ کا واحد قابل عمل حل ہجرت ہے۔ یعنی میدان محنت کی تبدیلی۔ ان فسادات کے معاملہ میں اب تک مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے” مبنی بر غیر“ انداز میں اپنی تحریک چلاتے رہے ہیں۔ یعنی فرقہ وارانہ تنظیموں کے خلاف احتجاج حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کرنا کہ وہ فساد کوروکیں۔ مگر ان کوششوں کے نتیجہ میں فسادات میں ایک فی صد بھی کمی نہیں آئی۔ اب مسلمانوں کو اس معاملہ میں ”مبنی بر خویش “ روش پر آجا نا چاہیے۔ یعنی خود اپنی بنیاد پر سوچنا۔ خود اپنی کوشش سے مسئلہ کا حل نکالنا۔

مبنی بر خویش حل سے میری مراد ہرگز دفاعی تدبیر نہیں ہے جس کو مسلمانوں کے کچھ نادان لکھنے اور بولنے والے لوگ پیش کر رہے ہیں۔ نام نہاد دفاع اس مسئلہ کو صرف بڑھانے والا ہے۔ وہ ہرگز اس کو گھٹانے

‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues

Printed page