انسان، حیوان
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱۹
پر یہاں آئے۔ اچھے کاری گر اور ہنرمند تھے۔ جلد ہی انھوں نے اپنا کاروبار کھڑا کر لیا اور اپنے گھربھی بنالیے تو جن لوگوں سے ہمارے سیکڑوں برس کے تعلقات تھے ، جو ہمارے گاؤں کے لوگ تھے ، جو ہمارے بھروسے پر یہاں آئے تھے ، اور جنہیں ہم چاچا، تایا ، ماموں کہہ کر پکارتے ہیں، اگر ہم اپنے گھر بیا کر ان کے گھر جلوادیتے تو پھر اوپر والے کو کیسے منہ دکھاتے ؟ “ میرا دل بھر آیا۔ میں اپنے کو ضبط نہ کر سکا۔ میں نے کہا ” کلیان سنگھ ! جب تک تیرے جیسے آدمی ہندوستان میں ہیں تو اس ملک سے باہمی محبت اور یک جہتی کی جڑوں کو کوئی ہلا نہیں سکتا“ فطرت انسانی کلیان سنگھ نے جو کچھ کیا، اپنی فطرت کی پکار پر کیا۔ ہر آدمی اسی فطرت صحیح پر پیدا ہوتا ہے۔ ہر آدمی ابتدائی طور پر اپنی فطرت کے زیر اثر ہی کام کرتا ہے۔ البتہ جب اس کو بھڑکاکر غصہ دلا دیا جائے تو اس وقت اس کی انسانی فطرت دب جاتی ہے اور اس کی حیوانی خصلت ابھر آتی ہے۔ تخریب اور فساد کے تمام واقعات اسی وقت ہوتے ہیں جب کہ انسان کو غصہ دلا کر اس کو اس کی فطرت سے ہٹادیا گیا ہو۔ جب تک آپ فریق ثانی کو مشتعل نہ کریں، وہ آپ کے لیے ” انسان سنگھ “ رہتا ہے۔ مگر جب آپ اپنی کسی حرکت سے اس کے اندر اشتعال پیدا کر دیں تو وہ آپ کے لیے ”حیوان سنگھ بن جائے گا۔ اب اس کی گاڑی فطرت کی پٹری سے اتر جائے گی۔ اور جو گاڑی اپنی اصل پٹری سے اتر جائے وہ خود بھی تباہ ہوگی اور دوسرے کے لیے بھی تباہی کا سبب بن جائے گی۔
فریق ثانی کی انسانی فطرت کو جگائیے، اور اس کی حیوانی فطرت کو سویا رہنے دیجیے۔ یہی کامیاب اجتماعی زندگی کا واحد یقینی راز ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues