Al-Risala · September 1992 · page 18

انسان، حیوان

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱۸

میں نے پوچھا آپ کا نام ؟ جواب ملا " میرا نام کلیان سنگھ ہے "

میں نے پھر پوچھا : " تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بار مسلمانوں کا مجمع آیا جو ہندوؤں کے مکان جلا گیا ، اور دوبارہ ہندوؤں کا مجمع آیا جو مسلمانوں کے مکان جلا گیا ؟ " وہ صاحب بولے : " جی نہیں ۔ مجمع تو ایک ہی آیا تھا اور وہ ہندوؤں کا تھا "۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا : " تو کیا ہندوؤں نے ہی ہندوؤں کے مکان جلا دیے ؟ " جواب ملا : " جی ! " میں نے کہا : " آپ کا گھر کون سا ہے ؟ " انھوں نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا : " وہ جس سے اب بھی دھواں نکل رہا ہے۔ اس میں میری رہائش بھی تھی اور دکان بھی ۔ دکان موٹروں کے ٹائروں اور سائیکل کے ٹائروں کی تھی۔ اسی وجہ سے دھواں اب بھی نکل رہا ہے "۔ میں نے پھر پوچھا : " کلیان سنگھ جی ! کتنے کی مالیت رہی ہوگی ؟ "

جواب ملا : " مکان کی مالیت تو قریب ایک لاکھ ہی ہوگی اور دکان کی بھی کم و بیش اتنی ہی " میں نے حیران ہو کر پوچھا : " آخر ہندوؤں کے مکان جلانے کی وجہ کیا تھی؟ " ؟" کلیان سنگھ نے کہا : " مجمع نے آ کر ہم لوگوں سے پوچھا کہ ہمیں یہ بتاؤ کون سے مکان ہندوؤں کے ہیں اور کون سے مسلمانوں کے ۔ ہم ہندوؤں کے مکانوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کے مکان جلانا چاہتے ہیں " ہم نے انہیں یہ بتانے سے انکار کر دیا۔ اس پر وہ بہت خفا ہوئے۔ اور لوگوں سے انھوں نے پوچھا۔ سب نے میری بات کی ہی تائید کی۔ بھیڑ میں لوگوں نے چلا کر کہا: " تب ہم سب مکان جلا دیں گے " ہم نے کہا: " آپ کی مرضی " انھوں نے سارے مکانوں میں پٹرول سے آگ لگادی ۔ جب شعلے پوری طرح بھڑک اٹھے تب وہ وہاں سے رخصت ہوئے "۔

میں نے پوچھا : " کلیان سنگھ ! تم نے اپنی دو لاکھ کی مالیت خاک میں ملوادی ۔ شاید زندگی بھر کی کمائی ۔ اور یہ بتا کیوں نہیں دیا کہ تم ہندو ہو ۔ "

کلیان سنگھ نے پاس کھڑے ہوئے مسلمانوں سے تعارف کراتے ہوئے کہا : " ہم اور یہ دونوں راجستھان میں سیکر کے ایک ہی گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ پہلے ہم ہندو یہاں آکر بسے اور ہم نے اپنا کاروبار جمایا ۔ اس کے برسوں بعد ہمارے مسلم پڑوسیوں نے ہم سے کہا ، کیا ہم بھی آپ کے ساتھ وہاں چل سکتے ہیں اور آپ کے زیر سایہ دو روٹی کما سکتے ہیں ؟ ہم نے ہامی بھری ۔ وہ ہمارے بھروسے اور اطمینان

‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues

Printed page