Al-Risala · September 1992 · page 23

کمزور کڑی

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۳

اس کی ایک مثال ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات ہیں۔ یہ فسادات کوئی استثنائی چیز نہیں ہیں۔ دنیا کے ہر سماج میں وہ اسباب موجود رہتے ہیں جن کو اگر بڑھنے کا موقع دیا جائے تو وہ خوں ریز فساد کی صورت اختیار کر لیں گے۔

ان حالات میں وہی کرنا چاہئے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : ان الفتنۃ نائمة لعن الله من ایقظھا۔ یعنی اسباب فساد کو خوابیدہ حالت میں پڑا رہنے دیا جائے۔ اس کی نوبت نہ آنے دی جائے کہ اسباب فساد بڑھ کر واقعہ فساد کی صورت اختیار کر لیں۔ انسانی سماج سے فساد کے امکان کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ حسن تدبیر کے ذریعہ ایسا کیا جا سکتا ہے کہ امکان کو واقعہ بننے سے روک دیا جائے۔ تاہم یہ ایک شعوری عمل ہے۔ مسلمان چوں کہ اس معاملہ میں شعور سے بہرہ مند نہ تھے ، اس لئے وہ فساد کے خلاف تدبیر کا انداز بھی اختیار نہ کر سکے۔

کسی بستی کے مسلمانوں کو یہ خبر ملتی ہے کہ فوق الثانی ان کے خلاف سازش یا اشتعال انگیزی کر رہا ہے۔ اس قسم کی خبر سننے کے بعد مسلمانوں کے اندر فوری طور پر جو رد عمل ہوتا ہے وہ صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے مقابلہ کے لئے اقدام۔ اس معاملہ میں ان کی بے شعوری اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ ہزاروں بار کے ناکام تجربہ کے باوجود اب تک وہ اپنے اس طریق کار پر نظر ثانی نہ کر سکے۔ یہی تمام فسادات کا خلاصہ ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ ضروری کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو یہ شعور دیا جائے کہ ایسے مواقع پر صحیح طریق کار یہ ہے کہ وہ مقابلہ کے ذہن سے نہ سوچیں بلکہ تدبیر کے ذہن سے سوچیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے یہی طریقہ ثابت ہوتا ہے۔ اور عقل بھی اسی کی صحت کی تصدیق کرتی ہے۔ مسلمانوں کے اندر اگر یہ شعور پیدا ہو جائے کہ اس قسم کی خبر سننے کے بعد وہ مقابلہ کے انداز میں سوچنے کے بجائے حکیمانہ تدبیر کے انداز میں سوچیں تو فسادات کا مسئلہ اس طرح ختم ہو جائے گا جیسے کہ اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

زندگی میں اختلاف اور نزاع کی صورت لازمی طور پر پیش آتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ آدمی اگر با شعور ہو تو وہ معاملہ کو کوشش تدبیری کے ذریعہ حل کرے گا۔ اور اگر آدمی باشعور نہ ہو تو وہ جوش اور رد عمل کا مظاہرۃ کرے گا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ شکایت کا ایک معمولی واقعہ بڑھ کر بربادی اور ہلاکت تک پہنچ جائے گا۔ اس کو تقابلی طور پر سمجھنے کے لئے کچھ متعین مثال لیجئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues

Printed page