پہلی مثال
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۴
پہلی مثال
محمد نعیم صاحب (پیدائش ۱۹۶۲) راجستھان (گنگا پور) کے رہنے والے ہیں۔ وہ الرسالہ کے قاری ہیں۔ ۲۸ اپریل ۱۹۹۱ کو دہلی میں ان سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے کو ٹہ کے فساد (اکتوبر ۱۹۸۸) کی تفصیلات بتائیں۔ انھوں نے کہا کہ کو ٹہ میں ہندوؤں کی طرف سے گنیش چتر تھی کا جلوس نکالا گیا تھا۔ وہ نعرہ لگاتا ہو ا گھنٹہ گھر کے علاقہ میں پہنچا۔ یہ مسلم علاقہ ہے۔ یہاں وہ اشتعال انگیز نعرے لگانے لگے مثلاً ہندوستان میں رہنا ہوگا ، بندے ماترم کہنا ہوگا۔ اب کچھ مسلمان سڑک پر نکل آئے اور ان کو نعرہ بازی سے روکنا چاہا۔ مگر وہ لوگ نہیں رکے۔ اس کے بعد مزید جھڑپ ہوئی۔ یہاں تک کہ ٹکراؤ کی نوبت آگئی اور پھر باقاعدہ فساد شروع ہو گیا۔ پندرہ مسلمان اس میں مارے گئے اور کروڑوں روپے کی جائدادیں جلا دی گئیں۔
اس کے بعد انھوں اس کے برعکس ایک مثال بتائی۔ انھوں نے کہا کہ کوٹہ کے فساد سے ایک دن پہلے اسی راجستھان کے مقام بارہ میں ہندوؤں نے اسی طرح گنیش چتر تھی کا جلوس نکالا۔ یہ جلوس چلتا ہوا مانگرول دروازہ پہنچا۔ وہاں ایک مسجد کے سامنے خوب زور زور سے نعرہ لگانے لگا۔ یہاں بھی وہی نعرہ تھا کہ: ہندوستان میں رہنا ہوگا ، بندے ماترم کہنا ہوگا۔ مسجد میں نیچے دکانیں ہیں ، اوپر مسجد ہے۔ یہاں چھت پر مسلم نوجوانوں کی ایک تعداد جمع ہو گئی۔ وہ لوگ نعرہ کو سن کر غصہ تھے اور جلوس کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے تھے۔ محمد نعیم صاحب ایک جماعت کے ساتھ بارہ گئے تھے اور اس وقت مانگرول کی اسی مسجد میں اپنے دس ساتھیوں کے ہمراہ موجود تھے۔ محمد نعیم صاحب فوراً مسلم نوجوانوں کے پاس آئے جو اس وقت جوش میں بھرے ہوئے تھے۔ ان کو مسجد کے اندر لے گئے۔ ان سے کہا کہ آپ غصہ کیوں ہورہے ہیں۔ ان کا نعرہ لفظ ہی تو ہے ۔ وہ کوئی پتھر یا تیر تو نہیں جو آپ کے جسم کو لگ رہا ہو۔ پھر ان لوگوں کو صحابہ کے واقعات سنائے کہ انھوں نے کس طرح صبر کیا۔ اس طرح آدھ گھنٹہ تک انھوں نے مسلم نوجوانوں کو روکے رکھا یہاں تک کہ جلوس چلا گیا۔
ایک ہی واقعہ ایک فساد بن جاتا ہے اور دوسری جگہ جگہ فساد نہیں بنتا۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ ایک جگہ مسلمانوں نے بے صبری کی ، اور دوسری جگہ انھوں نے صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ ایک جگہ انھوں نے بم پر بم مارا ، اور دوسری جگہ انھوں نے بم کو ڈیفیوز کر دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues