دوسری مثال
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۶
بالکل بے بنیاد ہے۔ یہ صحیح ہے کہ وہ اس وقت باہر چلا گیا ہے مگر اس کا یہ سفر عارضی طور پر ایک ذاتی سبب کی بنا پر ہے نہ کہ کسی قسم کی دھمکی کی بنا پر۔
ہندی اخباروں کی اس پارٹی نے اپنی ذاتی تحقیق میں یہ پایا کہ مذکورہ خبر سراسر بے بنیاد اور گھڑی ہوئی تھی۔ اس کا کوئی جز بھی سچائی پر مبنی نہ تھا۔ اس کے بعد ان اخباروں کے ہندو نامہ نگاروں نے مفصل رپورٹ مرتب کی اور اس کو اپنے اخباروں میں شائع کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ہم لوگ خود خان پور کے علاقہ میں گئے اور وہاں ذاتی طور پر تمام باتوں کی تحقیق کی اور ہم نے پایا کہ یہ خبر سراسر غلط ہے۔ اس کے بعد تناؤ اور فساد کا ماحول اپنے آپ ختم ہوگیا۔
اب اس کے برعکس مثال لیجئے ۔ یہ مثال کانپور سے تعلق رکھتی ہے۔ ۱۷ جنوری ۱۹۹۱ کو میری ملاقات جناب نیاز احمد کانپوری (213169.Tel) سے ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ یوپی میں ہندی کے دواخبار ہیں ، دینک جاگرن ، دینک آج ۔ ان اخباروں میں باہم مقابلہ جاری رہتا ہے۔ وہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ کوئی سنسنی خیز خبر نکالیں اور اس کو بڑھا چڑھا کر چھاپیں تاکہ ان کا اخبار زیادہ بک سکے۔ دینک جاگرن نے ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۰ء سے کچھ پہلے یہ خبر چھاپی کہ کانپور کے مسلمان ہتھیار جمع کر رہے ہیں۔ مسلمان ہندوؤں کے خلاف فساد کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں فرضی طور پر کچھ مسلم محلوں بابو پورہ چمن گنج ، فیمتھ فل گنج وغیرہ کا نام بھی چھاپ دیا۔ اس کے فوراً بعد مسلمانوں نے یہ کہا کہ احتجاجی طور پر دینک جاگرن کی کاپیاں لے کر کئی روز تک ان کو سڑکوں پر جلاتے رہے۔ مسلم ہوٹلوں میں دینک جاگرن کا بائیکاٹ کیا گیا، وغیرہ۔
اس سلسلہ میں دو طرفہ طور پر مختلف قصے ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ نام نہاد انصاف پارٹی کے ایک مقامی لیڈر کے کہنے پر مسلمانوں نے کانپور بند کی کال دی۔ ۸ دسمبر کو کانپور کے مسلمانوں کی دکانیں بند کرائی گئیں۔ مسلم نوجوانوں نے جلوس نکالے۔ بعض محلوں میں دکانیں بند کروانے کے سلسلہ میں جھڑپیں ہوئیں۔ جلوس کے لوگ تشدد پر اتر آئے۔ اس کے بعد پولیس آئی۔ پولیس نے ہوائی فائر کیا۔ اس کے نتیجہ میں بھگدڑ مچی اور کچھ مسلمانوں کو گرفتار کر لیا گیا ۔ بعد کو جب مسلمان چھوڑے گئے تو مسلمانوں نے دوبارہ جلوس نکالا۔ اس جلوس کے دوران ایک واقعہ پیش آیا جس کے نتیجہ میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں ٹکراؤ ہو گیا۔ پولیس اور مسلمانوں کے درمیان باقاعدہ لڑائی ہوئی ۔ مسلمان اپنی چھتوں پر چڑھ کر پولیس
‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues