دوسری مثال
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۷
کے خلاف پتھر اور بم وغیرہ آزادانہ استعمال کرتے رہے۔ یہ واقعہ ال دسمبر ۱۹۹ کا ہے۔ یہ فساد تین دن تک باقاعدہ جاری رہا۔ جناب نیاز احمد صاحب کے بیان کے مطابق ۱۱ مسلمان مارے گئے ۔ ۱۰۹ دکانوں اور مکانوں کو جلا دیا گیا۔ وغیرہ۔
وہی واقعہ جو الور میں خوش تدبیری کے نتیجہ میں ایک قطرہ خون بہائے بغیر ختم ہو گیا، وہی واقعہ کانپور میں جان و مال کی تباہی کا سبب بن گیا۔ احساس کے نتیجہ میں نفرت اور تعصب کا جو زہر مقامی طور پر پھیلا اور پریس کے ذریعہ پورے ملک کے لوگوں کے دلوں میں داخل ہوا، وہ اس کے علاوہ ہے۔ یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے۔ یہاں ہمیشہ ایسا ہوگا کہ مختلف عنوان سے ایک اور دوسرے کے درمیان نزاع اور کش کش کی صورتیں پیدا ہوں۔ ایسا ایک خاندان کے افراد کے درمیان بھی ہوگا اور ملک کے مختلف فرقوں کے درمیان بھی۔ ایسے واقعات ایک قومی سماج میں بھی پیش آئیں گے اور دو قومی سماج میں بھی۔
ایسی حالت میں جو لوگ ایسا کریں کہ وہ ہر ناخوشگوار واقعہ پر جھنجھلا کر لڑنے لگیں تو وہ صرف اپنی ناکامی کا گڑھا کھودیں گے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایسے مواقع پر رد عمل کے بجائے حکیمانہ عمل کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ آگ کو بھڑکانے کے بجائے آگ کو بجھانے کی تدبیر کی جائے ۔ فساد کے بم پر بم نہ مارا جائے ، بلکہ فساد کے بم کو خوش تدبیری سے ڈیفیوز (ناکارہ) کر دیا جائے ۔
اس طرح کے معاملات کا یہی ایک واحد حل ہے۔ اس کے سوا ہر دوسرا طریقہ فساد میں اضافہ کے سوا کسی اور انجام تک پہنچنے والا نہیں۔ آج سب سے زیادہ ضروری کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو با شعور بنایا جائے ۔ یہ مسئلہ بے شعوری کے سبب سے پیدا ہوا ہے اور مسلمانوں کو باشعور بنا کر اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues