مسائل، مواقع
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۸
مسائل، مواقع
زندگی میں مسائل بھی ہوتے ہیں اور مواقع بھی، ٹھیک اسی طرح جس طرح گلاب کے درخت میں کانٹے بھی ہوتے ہیں اور پھول بھی۔ ہندوستانی مسلمانوں کا یہ المیہ ہے کہ ان کے لکھنے اور بولنے والے طبقہ نے ان کے سامنے صرف مسائل کی مبالغہ آمیز داستان سنائی۔ انھوں نے مسلمانوں کو مواقع سے باخبر نہیں کیا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان خلاف واقعہ طور پر یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اس ملک میں ان کے لیے مسائل ہی مسائل ہیں، یہاں ان کے لیے زندگی اور ترقی کے مواقع موجود نہیں۔
یورپ کے سفر میں میری ملاقات ایک ہندوستانی مسلمان سے ہوئی۔ وہ ایک یورپی شہر میں ایک انگریزی اخبار کے ادارتی اسٹاف میں تھے۔ انہیں ایک باعزت زندگی حاصل تھی اور ان کے بچے وہاں کے ایک اچھے اسکول میں تعلیم پا رہے تھے ۔ ہندوستانی مسلمانوں کا ذکر آیا تو میں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا بنیادی مسئلہ تعلیم ہے۔ تعلیم میں پیچھے ہونے کی وجہ سے وہ ہر شعبہ میں پیچھے ہیں۔ اور اگر وہ تعلیم میں آگے بڑھ جائیں تو اس کے بعد وہ اپنے آپ زندگی کے ہر شعبہ میں آگے بڑھ جائیں گے۔ اس سلسلہ میں تعلیم کی اہمیت بتاتے ہوئے میں نے سابق امریکی صدر لنڈن جانسن کا یہ قول دہرایا : Learning is the basic to our hopes for America میری بات سن کر انھوں نے کرسی پر اپنا پہلو بدلا اور بے پروائی کے انداز میں بولے: آپ لرننگ (learning) کی بات کیے ہیں اور یہاں تو اب ڈی لرننگ (de-learning) کی تحریک چل رہی ہے۔ ان کی بات سن کر مجھے سخت جھٹکا لگا۔ میں نے کہا کہ جناب، یہ بتائیے کہ آپ یہاں جو زندگی حاصل کرتے ہوئے ہیں وہ لرننگ کی بنیاد پر ہے یا ڈی لرننگ کی بنیاد پر۔ اور اپنے بچوں کو آپ لرننگ کے ادارہ میں داخل کیے ہوئے ہیں یا ڈی لرننگ کے میدان میں گھومنے کے لیے انھیں چھوڑ دیا ہے۔ میرے اس سوال پر وہ مسکرا کر خاموش ہو گئے ۔
اس طرح کے مسلسل تجربات کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ نام نہاد مسلم دشمن طاقتیں نہیں ہیں بلکہ خود مسلمانوں کے نام نہاد دانشور اور ان کے رہنما ہیں۔ یہ لوگ خود اپنے معاملات نہایت ہوشیاری کے ساتھ حل کئے ہوئے ہیں۔ مگر جب وہ پریس اور پلیٹ فارم سے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues