اصلی سبب
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۲
اب نام نہاد مسلم دانشور اورمسلم رہنما یہ کر رہے ہیں کہ جب اپنی ذات کا اور اپنے بیٹوں کا معاملہ ہوتا ہے تو وہ مسائل کو نظر انداز کرتے ہیں اور مواقع کو استعمال کرتے ہیں۔ اور جب وہ ملت کے مسألہ پر بولتے ہیں تو اس کے برعکس وہ ایسا کرتے ہیں کہ مواقع کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور مسائل کو بڑھا چڑھا کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ان کے اسی تضاد کا یہ نتیجہ ہے کہ ملت تباہ ہے اور وہ خود ملک میں شاندار ترقیاں حاصل کر رہے ہیں۔
موجودہ دنیا کبھی بے مسائل نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح یہ بھی ناممکن ہے کہ دنیا مواقع حیات سے خالی ہو جائے۔ عقل مند آدمی وہ ہے جو مسائل سے صرف نظر کرے اور مواقع کو بھر پور طور پر استعمال کرے یہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز ہے۔ جو لوگ اس حکمت کو اختیار کریں وہ اس دنیا میں کبھی ترقی اور کامیابی سے محروم نہیں رہ سکتے۔
مسلمانوں کے نام نہاد رہ نما یہ متضاد رویہ کیوں اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس کی ایک معلوم وجہ ہے۔ آگ وہ مسلمانوں کو وہ آزمودہ تدبیر بتائیں جس سے انھوں نے کامیابی حاصل کی ہے تو ان کو ” موافقت“ کی زبان بولنی پڑے گی۔ کیوں کہ یہ دراصل موافقت کا طریقہ ہے جس نے ان کو ملک کے اندر اور ملک کے باہر ترقی کے مواقع دے رکھے ہیں۔
مگر انھیں ڈر ہے کہ ایسا کرتے ہی وہ مسلمانوں کے درمیان اپنی قیادت کھو دیں گے۔ کیونکہ مسلمان اپنے موجودہ مزاج کی بنا پر، موافقت کی باتوں کو بزدلی سمجھتے ہیں اور ٹکراؤ کی باتوں کو جہاد مسلمانوں کے درمیان ٹکراؤ کی باتیں کرنے سے لیڈری ملتی ہے۔ اور جو شخص موافقت اور ایڈ جسٹمنٹ کی بات کرے وہ فوراً مسلمانوں کی نظر میں غیر مقبول ہو جاتا ہے۔
یہ نام نہاد لیڈر خوب جانتے ہیں کہ ترقی کار از حالات سے موافقت میں ہے اور وہ اپنی ذات کے معاملہ میں مکمل طور پر اسی طریقہ کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مگر جب وہ اسٹیج پر آتے ہیں تو وہ ٹکراؤ کی زبان بولتے ہیں تا کہ مسلمانوں کے اندر اپنی مقبولیت کو باقی رکھ سکیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues