My way is to begin from the beginning.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۳
کرنے کا کام
1991 کی بات ہے۔ کچھ مسلم نوجوان میرے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم ایک کانفرنس کرنا چاہتے ہیں، آپ بھی اس میں ہمارا تعاون کیجئے۔ میں نے پوچھا کہ اس کا نفرنس کا موضوع (theme) کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ " اقدام امت " میں نے کہا کہ اگر آپ ایک لفظ بدل دیں تو میں آپ کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہوں۔ انھوں نے پوچھا کہ وہ کیا لفظ ہے۔ میں نے کہا کہ آپ اس کو اقدام امت کا نفرنس نہ کہیں بلکہ اس کو تیاری امت کا نفرنس کی حیثیت دے دیں۔ انھوں نے اس تبدیلی کو قبول نہیں کیا اور واپس چلے گئے۔
زندگی میں ہمیشہ دو مرحلے ہوتے ہیں۔ ایک تیاری کا مرحلہ، اور دوسرا اقدام کا مرحلہ۔ دوسرا مرحلہ ہمیشہ مرحلہ اول کے بعد آتا ہے نہ کہ مرحلہ اول سے پہلے۔ اس وقت مسلم امت اقدام کے مرحلہ میں نہیں ہے بلکہ وہ تیاری کے مرحلہ (preparatory period) میں ہے۔ مرحلہ کے مطابق کام کرنا عمل ہے، اور مرحلہ کے خلاف کام کرنا صرف وقت اور مال کا ضیاع۔
خدا کا طریقہ یہ ہے کہ جب وہ زمین پر ایک پھل دار درخت اگانا چاہتا ہے تو وہ پھل سے اس کا آغاز نہیں کرتا بلکہ بیج سے اس کا آغاز کرتا ہے۔ وہ بیج سے چل کر بتدریج پھول اور پھل تک پہنچتا ہے۔ اس طرح گویا خدا تمام انسانوں کو فطرت کی زبان میں یہ پیغام دے رہا ہے کہ میرا طریقہ آغاز سے شروع کرنا ہے :
My way is to begin from the beginning.
اس کے برعکس مسلم دانشوروں اور مسلم رہنماؤں کا حال یہ ہے کہ وہ پہلے ہی مرحلہ میں آخری نتیجہ کی طرف چھلانگ لگانا چاہتے ہیں، وہ تیاری کے بغیر اقدام کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اس قسم کا ہر مسلمان گویا اپنے عمل کے ذریعہ یہ کہہ رہا ہے کہ میرا طریقہ آخری مقام سے شروع کرنا ہے : My way is to begin from the top. یہ طریقہ یقینی طور پر فطرت کے خلاف ہے۔ اور اس دنیا کے بارے میں خدا کا فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص فطرت کے نظام کے مطابق کام کرے وہ کامیاب ہو، اور جو شخص فطرت کے نظام سے مطابقت
‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues