Al-Risala · September 1992 · page 49

خاتمہ کلام

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۹

میں جگہ جگہ فساد ہونے لگے۔ جو آج تک جاری ہیں۔ اسی بنیاد پر ہندوستان میں بھی فساد ہو رہا ہے اور اسی بنیاد پر پاکستان میں بھی۔

اس مسئلے کی امیںیت کو محسوس کرتے ہوئے ۲۵ سال پہلے کی۔ میں نے ایک تعمیری مہم شروع کی۔ ہم نے مسلمانوں کے اندر یہ ذہن پیدا کرنے کی کوشش کی کہ فرقہ وارانہ فساد کا حل جلوس کو روکنا نہیں ہے بلکہ جلوس کو نظر انداز کرنا ہے۔ ۲۵ سالہ کوشش کے بعد اب خدا کے فضل سے اس کے اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔ انڈیا میں سیکڑوں مقامات پر صرف اس لئے فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا کہ مسلمانوں نے اپنے نئے ذہن کے تحت جلوس کو روکنے کے بجائے ان سے اعراض کرنے کی پالیسی اختیار کی۔ اس کی کچھ مثالیں پچھلے صفحات میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلہ میں مسلمانوں کے اندر یہ جو نیا رجحان پیدا ہوا ہے یہ ان شاء اللہ بڑھے گا۔ یہاں تک کہ وہ وقت آئے گا جب کہ مسلمانوں کے اندر یہاں کے ماحول میں عدم تحفظ کا احساس مکمل طور پر ختم ہو جائے ۔ وہ ملک میں ترقی کے راستہ پر مزید آگے بڑھیں گے اور خود ملک کی ترقی میں اضافہ کریں گے۔

خاتمہ کلام

آپ غالباً یہ سوال کریں کہ تمہاری رائے اور دوسروں کی رائے اتنی زیادہ مختلف کیوں ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے کیس کو دوسرے لوگ مظلومیت کا کیس بتاتے ہیں اور تم ان کے کیس کو قومی ترقی کا کیس بتا رہے ہو۔ اس فرق کا سبب زاویہ نظر کا فرق ہے۔ میرا ریلیٹگ اپروچ ہے اور دوسرے لوگوں کا نان ریلیٹگ اپروچ۔ لوگ چیزوں کو اپنی خواہش کے مطابق دیکھنا چاہتے ہیں۔ جب کہ میں یہ دیکھتا ہوں کہ موجودہ دنیا میں کیا چیز ممکن ہے اور کیا چیز ممکن نہیں۔ کیونکہ قانون حیات کے تحت جو چیز نا ممکن ہو اس کو آپ اپنی خواہش کے تحت اپنے لئے قابل حصول نہیں بنا سکتے۔ یہ دنیا خدا نے بنائی ہے اور وہ لازماً اسی نظام پر چلے گی جو نظام خدا نے اس کے لئے مقرر کر دیا ہے۔ اس دنیا کے لئے خدا نے یہ اصول مقرر کیا ہے کہ یہاں پھول کے ساتھ کانٹا بھی موجود رہے۔ اب ایک شخص اگر اپنے ذہن میں یہ تصور قائم کرلے کہ پھول کو کانٹے کے بغیر ہونا چاہئے ۔ ایسا شخص جب باغ کو دیکھے گا تو اس کی نظر کانٹے پر اٹک جائے گی۔ وہ باغ کو کانٹوں کا جنگل سمجھنے لگے گا۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues

Printed page