Al-Risala · September 1992 · page 48

تعلیم کا میدان

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۸

ڈاکٹر خلیل اللہ جیسے میڈیکل ایکسپرٹ اور پروفیسر خسرو جیسے ماہر معاشیات پیدا ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں میں مسٹر رضوی اور مسٹر سبحانی جیسے نوجوان ابھر رہے ہیں جنہوں نے آئی اے ایس کے مقابلہ میں پورے ملک میں ٹاپ کیا ہے۔ وغیرہ فرقہ وارانہ فسادات دوسرا مسئلہ فرقہ وارانہ فسادات کا ہے۔ ان فسادات نے مسلمانوں کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ ممگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ان فسادات کا تعلق ہندوستان کے موجودہ نظام سے نہیں ہے بلکہ ان کا تعلق خود مسلمانوں کی زرد قیادت اور زرد صحافت سے ہے۔ یہ دراصل ہماری نام نہاد صحافت و قیادت ہے جو فرقہ وارانہ فساد کی اصل ذمہ دار ہے۔

ان فسادات کی منطق کیا ہے۔ اس کے لئے میں دوبارہ آپ کے پڑوسی شہر بمبئی کی مثال دوں گا۔ آزادی ہند سے تقریباً ۲۰ سال پہلے بمبئی میں ہندوؤں کا ایک جلوس نکلا۔ یہ جلوس چلتا ہوا ایک خاص سڑک پر پہنچا جہاں ایک مسجد واقع ہے۔ مسجد کے متولی کو مسجد کے سامنے ہندو جلوس گزارنے پر اختلاف ہوا۔ متولی نے روکا۔ جب جلوس والے نہیں رکے تو اس نے بمبئی کی عدالت میں اس کے خلاف کیس کر دیا۔ متولی کا یہ مطالبہ تھا کہ عدالت یہ حکم جاری کرے کہ آئندہ کوئی ہندو جلوس اس کی مسجد کے سامنے سے نہیں گزرے گا۔

اس وقت بمبئی میں ایک مسلمان وکیل تھے۔ انھوں نے اس کیس میں مسلم متولی کی طرف سے پیروی کی۔ انگریز جج نے یہ حکم جاری کر دیا کہ مذکورہ مسجد کے پاس یہ نوٹس لگادی جائے کہ آئندہ کوئی ہندو جلوس اس مسجد کے سامنے سے نہیں گزارا جائے گا۔ مسلمان وکیل کی اس کامیاب پیروی پر مسلمان خوش ہوگئے ۔ ان کو اتنی مقبولیت ہوئی کہ وہ مسلمانوں کے عظیم لیڈر بن گئے۔ مگر یہ قیادت نہیں تھی بلکہ غلط رہنمائی تھی۔ مذکورہ مسلمان وکیل کو مسلمانوں سے یہ کہنا چاہئے تھا کہ جلوس کے مسئلہ کا حل جلوس کو روکنا نہیں ہے بلکہ اصل کو نظر انداز کرنا ہے۔ تم اپنا الگ ملک بناؤ گے تو وہاں بھی مختلف لوگ جلوس نکالیں گے ۔ پھر تم کیا کرو گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں مسلمانوں کے لئے انتخاب جلوس اور بے جلوس میں نہیں تھا۔ بلکہ جلوس اور فساد میں تھا۔ گر مسلمانوں کی زرد قیادت اور ان کی زرد صحافت مسلمانوں کو یہ رہنمائی نہ دے سکی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جلوس کو روکنے کی کوشش

‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues

Printed page