دعا اور اعتراف
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴
دعا اور اعتراف
تاریخِ اسلام کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو مواخاۃ کہا جاتا ہے ۔ مکہ کے مسلمان جب مہاجر کی حیثیت سے مدینہ میں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ دو دو شخص اللہ کی راہ میں بھائی بھائی بن جاؤ (تَأَخَوَا فِي اللَّهِ أَخَوَيْنِ أَخَوَيْنِ)، اس ہدایت کے مطابق ہر انصاری نے ایک مہاجر کو اپنا بھائی بنالیا۔ انصار نے اپنے تمام اثاثہ کو تقسیم کرکے آدھا خود لیا اور آدھا اپنے مہاجر بھائی کو دیدیا۔ اس مواخاۃ کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں موجود ہے ۔ اس معاملہ میں انصار نے یک طرفہ طور پر جس کمالِ ایثار کا ثبوت دیا اس کی کوئی دوسری مثال پوری معلوم تاریخ میں نہیں ملتی۔ انصار کے اعلیٰ سلوک سے خود مہاجرین بے حد متاثر تھے :
قال الامام احمد : حدثنا يزيد، اخبرنا حميد، عن انس، قال : قال المهاجرون : يا رسول الله ما رَأَيْنَا مثل قوم قدمنا عليهم احسن مواساة في قليل، ولا احسن بذلا من كثير، لقد كفونا المؤونة واشركونا في المهنا، حتى لقد خشينا ان يذهبوا بالاجر كله قال : " لا ، ما اثنيتم عليهم ودعوتم الله لهم "
حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ مہاجرین نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، جس قوم کے یہاں ہم آئے ہیں ، ان سے بہتر قوم ہم نے نہیں دیکھی۔ وہ کم میں بہترین ہمدردی کرنے والے ہیں اور زیادہ میں بہترین خرچ کرنے والے ہیں۔ وہ محنت میں ہماری طرف سے کافی ہوگیے اور پیداوار میں ہم کو شریک کر لیا۔ حتی کہ ہم کو ڈر ہے کہ سارا اجر انھیں کو نہ مل جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ، جب تک تم ان کی تعریف کرو اور اللہ سے ان کے لیے دعا کرتے رہو (سیرۃ ابن کثیر ۲/۳۲۸) اس حدیث سے نہایت اہم اسلامی اصول معلوم ہوتا ہے ۔ وہ یہ کہ زید کو بکر سے کچھ ملے مگر زید کے پاس کوئی مادی چیز لوٹانے کے لیے نہ ہو تو وہ کیا کرے ۔ ایسی حالت میں زید کو چاہیے کہ وہ بکر کے عطیہ کا کھلے دل سے اعتراف کرے۔ اعتراف کا یہ احساس اتنا زیادہ گہرا ہو کہ زید کے دل سے بکر کے لیے دعائیں نکلنے لگیں ـــــــــ۔ مال والے کے پاس دینے کے لیے اگر مال ہے، تو بے مال والے کے پاس بھی دینے کے لیے ایک چیز موجود ہے ، اور وہ دعا اور اعتراف ہے۔ اور بلاشبہ دعا اور اعتراف کی اہمیت کسی مادی عطیہ سے کم نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues