Al-Risala · October 1992 · page 5

نیا دور

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۵

نیا دور

زمین پوری کائنات میں ایک استثناء ہے۔ یہاں کے وسائل اور یہاں کے امکانات بے پناہ ہیں۔ وہ حسن اور معنویت کی ایک پوری دنیا اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ یہاں وہ سب کچھ اعلیٰ ترین مقدار میں موجود ہے جس کے ذریعہ خوشیوں اور لذتوں کی ایک ابدی تہذیب بنائی جاسکے۔

اس زمین کو نسب سے پہلے اس مخلوق کی تحویل میں دیا گیا تھا جس کو جن کہا جاتا ہے۔ مگر وہ اس عطیہ کے اہل ثابت نہ ہو سکے ۔ روایات میں آیا ہے :

عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ اِنَّ اَوْلَى مَنْ سَکَنَ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ زمین پر سب الارضِ الْجِنُّ فَافْسَدُوا فِيهَا وَسَفَكُوا سے پہلے جنات بسائے گئے۔ انھوں نے زمین میں فِيْهَا الدِّمَاءَ وَقَتَلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فساد برپا کیا اور خون بہایا اور ایک نے دوسرے ثُمَّ خَلَقَ اللهُ آدَمَ فَاسْكَنَهُ إِيَّاهَا کو قتل کیا۔ اس کے بعد اللہ نے آدم کو پیدا کیا اور فَلِذَلِكَ قَالَ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ ان کو زمین پر بسایا۔ اسی لیے قرآن میں اللہ تعالیٰ خَلِيفَةً ) تفسیر ابن کثیر 10/1) نے فرمایا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ انسانوں میں کچھ افراد اس آباد کاری کے اہل نکلے۔ مگر انسانوں کی اکثریت اس معاملہ میں نا اہل ثابت ہوئی۔ موجودہ زمانہ میں یہ نا اہلی اپنی آخری حد کو پہنچ گئی ہے۔ آج پوری دنیا انسانوں کے ظلم اور فساد سے بھر گئی ہے۔ ہر طرف لوٹ اور قتل کے ہنگامے جاری ہیں۔

یہ صورت حال اشارہ کر رہی ہے کہ غالباً اب زمین پر وہ آخری تبدیلی آنے والی ہے جس کی بابت بائبل میں یہ الفاظ آئے ہیں : صادق زمین کے وارث ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ بسے رہیں گے (زبور: باب ۳۷) قرآن میں اس کا اعلان ان لفظوں میں کیا گیا ہے : اور زبور میں ہم نصیحت کے بعد لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ بے شک اس میں ایک بڑی خبر ہے عبادت گزار لوگوں کے لیے (الانبیاء ۱۰۵ - ۱۰۶)

خدا کا یہ آخری فیصلہ اس طرح ظاہر ہوگا کہ تمام برے لوگ کاٹ کر پھینک دیے جائیں گے اور عابد اور صالح افراد ابدی طور پر زمین کے مالک ہوں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues

Printed page