Al-Risala · October 1992 · page 11

قدیم و جدید

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱۱

قدیم و جدید

ابتدائی دور میں عربوں نے عملی سائنس کو بہت کچھ ترقی دی۔ مثال کے طور پر یہ عرب ہی تھے جنھوں نے ساتویں صدی عیسوی میں سب سے پہلے قابلِ استعمال گھڑی تیار کی۔ جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ڈسکوری آف انڈیا میں اعتراف کیا ہے کہ اُس زمانہ میں دمشق میں ایک مشہور گھڑی موجود تھی، اور اسی طرح ہارون رشید کے زمانہ کے بغداد میں :

Damascus had a famous clock and so did the Baghdad of Harun-al- Rashid's day. (p.261). گھڑی کو مسلمانوں نے شروع کیا۔ مگر اس کو ترقی یافتہ صنعت بنانے کا تمام کام مغرب میں ہوا۔ آج یہ حال ہے کہ صرف گھڑیوں کی خریداری میں مسلم ملکوں کے کروڑوں ڈالر ہر سال مغربی دنیا میں پہنچ رہے ہیں۔ یہی معاملہ دوسری تمام جدید صنعتوں کا ہے۔ ان صنعتوں کا آغاز کرنے والے مسلمان تھے، مگر بعد کو وہ خود تو باہمی جھگڑوں میں پڑ گئے اور مغرب ان کی چیزوں کو لے کر ساری دنیا پر چھا گیا۔ مسلمانوں میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جو مذکورہ ماضی پر فخر کرتے ہیں۔ مگر ان میں ایسا کوئی شخص نظر نہیں آتا جو حال میں دوبارہ وہ کام کرنے کا پیغام دے جو ماضی میں قدیم مسلمانوں نے کیا تھا۔ یہ محض فخر ہے ، اور فخر کبھی عمل کا قائم مقام نہیں ہو سکتا۔

اسٹیم پاور سے چلنے والے جہاز کے وجود میں آنے سے پہلے تک مسلمان سمندری جہاز رانی میں دنیا سے آگے تھے۔ حتیٰ کہ ایک مورخ کے الفاظ میں، انھوں نے میڈی ٹرینین سمندر کو عرب جھیل بنا دیا تھا۔ مگر آج اسٹیم شپ کے دور میں مسلمانوں کی کوئی جہاز راں کمپنی نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بعد کو اپنے دورِ زوال میں پہنچنے کی وجہ سے مسلمانوں نے یہ صلاحیت کھودی کہ وہ نئی چیزوں کو سیکھیں اور نئی تحقیقات پر دھیان دیں۔ انھوں نے ہر معاملہ میں قدیم سے جڑے رہنے کو مذہب سمجھا اور جدید سے وابستہ ہونے کو لا مذہب سمجھنے لگے۔ امورِ دین (عقائد، عبادات، اخلاق) کے معاملہ میں ہم کو بلا شبہ پیچھے کی طرف دیکھنا ہے۔ مگر امورِ دنیا کے معاملہ میں ہم کو آگے کی طرف نظر رکھنا ہے۔ موجودہ مسلمان اس فرق کو نہ سمجھ سکے، یہی وجہ ہے کہ وہ زمانہ حاضر میں ایک پچھڑی ہوئی قوم بن گئے۔

11 السلال اکتوبر ۱۹۹۲

‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues

Printed page