Al-Risala · October 1992 · page 12

11 السلال اکتوبر ۱۹۹۲

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱۲

اعتراف

حضرت عمر فاروق ۱۳ھ سے ۲۳ھ تک خلیفہ رہے۔ اسی زمانہ کا واقعہ ہے ۔ ایک اعرابی مدینہ آیا ۔ اس نے کہا کہ کون ہے جو مجھ کو وہ کلام پڑھائے جو محمد ﷺ پر اترا ہے۔ ایک شخص نے اعرابی کو سورہ التوبہ پڑھائی ۔

یہ شخص عالم نہ تھا۔ اور اس وقت قرآن میں اعراب بھی نہیں ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ اس نے ایک آیت کو پڑھانے میں غلطی کر دی ۔ اس نے ان الله برى من المشركين ورسوله (لام کو زیر کے ساتھ) پڑھایا۔ اس طرح پڑھنے سے آیت کا مطلب یہ ہو گیا کہ اللہ مشرکین سے اور اپنے رسول سے بری ہے۔ اعرابی نے یہ سن کر کہا : کیا اللہ اپنے رسول سے بیزار ہو گیا۔ اگر اللہ اپنے رسول سے بیزار ہے تو میں بھی اس سے بہت زیادہ بیزار ہوں ۔

حضرت عمرفاروق کو اعرابی کے اس قول کی خبر ملی تو انھوں نے اعرابی کو بلایا۔ انھوں نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے ایسا کہا ہے کہ میں خدا کے رسول سے بیزار ہوں ۔ اعرابی نے جواب دیا کہ اے امیر المومنین، میں مدینہ آیا۔ مجھ کو قرآن کا علم نہ تھا۔ میں نے کہا کہ کون ہے جو مجھ کو قرآن پڑھا دے ۔ فلاں شخص نے مجھ کو سورہ التوبہ پڑھائی ۔ اس کی ایک آیت اس نے مجھ کو اس طرح پڑھائی : ان الله برى من المشركين ورسوله (لام کے زیر کے ساتھ) جب اس نے اس طرح پڑھایا تو میں نے کہا کہ کیا اللہ اپنے رسول سے بیزار ہے ۔ اگر اللہ اپنے رسول سے بیزار ہے تو میں بھی اس سے بہت زیادہ بیزار ہوں ۔ حضرت عمرفاروق معاملے کو سمجھ گئے۔ انھوں نے کہا کہ اے اعرابی ، یہ اس طرح نہیں ہے جس طرح فلاں آدمی نے تم کو پڑھایا ۔ اعرابی نے پوچھا کہ اے امیر المومنین، پھر وہ کس طرح ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ وہ اس طرح ہے : ان الله برىء من المشركين ورسوله (لام کے پیش کے ساتھ) اعرابی نے اس کو سنا تو فوراً کہا : اللہ مشرکین سے بیزار ہے تو میں بھی خدا کی قسم ، مشرکین سے بہت زیادہ بیزار ہوں ۔ غلطی کرنا برا نہیں ۔ بلکہ غلطی پر قائم رہنا برا ہے۔ زندہ انسان وہ ہے جس کو اس کی غلطی بتائی جائے تو فوراً وہ رجوع کرلے ، اور مردہ انسان وہ ہے جو غلطی بتانے کے بعد بھی رجوع کے لیے تیار نہ ہو۔ قرآن کے الفاظ میں ، وہ اس کو اپنے لیے وقار کا مسئلہ بنالے (البقره (۲۰۶)

‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues

Printed page