Al-Risala · October 1992 · page 15

موت کا نشانہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱۵

موت کا نشانہ

ڈاکٹر کرنی سنگھ (۱۹۸۸ - ۱۹۲۴) بیکانیر کے مہاراجہ تھے۔ ریاست کے خاتمہ کے بعد وہ ہندستانی پارلیمنٹ کے ممبر ہو گئے۔ ان کی اہم خصوصیت یہ تھی کہ وہ ایک ماہر نشانہ باز (Shooter) تھے۔ وہ ہندستان کی طرف سے پانچ اولمپک (روم، ٹوکیو، میکسیکو، میونخ، ماسکو) میں کامیابی کے ساتھ شریک ہوئے۔ وہ ۷ سال تک نشانہ بازی میں غیر مفتوح چیمپئن (Unbeated champion) بنے رہے۔ ۷ ستمبر ۱۹۸۸ کو نئی دہلی میں برین ہیموریج سے ان کا انتقال ہو گیا جب کہ ان کی عمر ۶۴ سال تھی۔

نشانہ بازی (Shooting) ایک قدیم فن ہے۔ پہلے غلیل اور گو پھن اور تیر کے ذریعہ نشانہ اندازی ہوتی تھی۔ اب رائفلوں اور بندوقوں کے زمانہ میں اس نے ایک نئے فن ڈارٹ آف فائرنگ کی صورت اختیار کر لی ہے۔ اس کے بڑے بڑے عالمی مقابلے ہوتے ہیں جہاں مصنوعی نشانوں (مثلاً مٹی کی چڑیا)، چڑیا)پرر ائفل وغیرہ سے گولی ماری جاتی ہے۔ اس موضوع پر مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ایک کتاب کا نام یہ ہے : C.E. Chapel, The Art of Shooting (1960)

آدمی خارجی چیزوں پر نشانہ لگاتا ہے، حالاں کہ عین اسی وقت وہ خود موت کے نشانہ پر ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کو اپنی زد میں لے کر خوش ہوتا ہے، حالاں کہ وہ خود پوری طرح موت کی زد میں ہوتا ہے۔ آدمی خارجی نشانہ اندازی کا چیمپئن بنتا ہے حالاں کہ اس کو داخلی نشانہ اندازی کا چیمپئن بننا چاہیے ۔ کتنا کم جانتے ہیں وہ لوگ جو اپنے آپ کو جاننے والا سمجھتے ہیں۔ کتنے غیر ماہر ہیں وہ لوگ جن کا نام دنیا والوں نے ماہرین کی فہرست میں لکھ رکھا ہے۔

جاننے والا وہ ہے جو اپنے آپ کو جانے ۔ نشانہ کا ماہر وہ ہے جو اپنے آپ پر نشانہ لگائے۔ خارج پر نشانہ لگانے والوں کو دنیا میں قیمت ملتی ہے، اپنے آپ پر نشانہ لگانے والوں کو آخرت میں ان کی قیمت ملے گی، خواہ دنیا والوں نے ان کے اس عمل کو جانا بھی نہ ہو۔

دوسروں پر نشانہ لگانا سب سے زیادہ آسان کام ہے اور اپنے آپ پر نشانہ لگانا سب سے زیادہ مشکل کام۔ دونوں میں اسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ خارجی نشانہ بازی کے میدان میں لوگوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے۔ مگر داخلی نشانہ کا میدان ہر طرف سونا نظر آتا ہے۔

15 المسلمة - اکتوبر ۱۹۹۲

‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues

Printed page