عبرتناک
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۱
اس دنیا میں کسی چیز کو پائیداری حاصل نہیں۔ یہاں کھڑی کی جانے والی تمام عمارتوں کے لیے مقدر ہے کہ ایک روز وہ ڈھ پڑیں۔ مگر کبھی کسی عمارت کو بنتے ہی گرا دیا جاتا ہے تاکہ لوگ چوکنّے ہوں اور غافل لوگ بھی ہونے والے واقعہ پر دھیان دے سکیں۔
یہاں ہر پیدا ہونے والا آخر کار مر جاتا ہے۔ مگر بعض افراد کو کم عمری ہی میں موت دے دی جاتی ہے تاکہ لوگوں کی آنکھیں کھلیں اور جو لوگ ہوشی میں پڑے ہوئے ہیں وہ بھی ہوش میں اگر اپنی اصلاح کر لیں۔
یہاں ہر آدمی کی آرزوئیں غیر تکمیل شدہ رہ جاتی ہیں، یہاں بڑے سے بڑا آدمی بھی اپنی تمناؤں کو اپنے سینے میں لیے ہوئے اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ تاہم کبھی اس حقیقت کو مزید کھولنے کے لیے ایسا کیا جاتا ہے کہ کسی شخص کو مذکورہ صورت میں اٹھا لیا جاتا ہے تاکہ اس معاملہ کی انتہائی مثال دنیا میں قائم ہو اور اندھے لوگ بھی اس کو دیکھیں اور بہرے لوگ بھی اس کو سن لیں۔
ایک بچہ کے ساتھ جب مذکورہ قسم کا واقعہ پیش آتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ ایک نو عمر بچہ کا کیا قصور تھا کہ اس کے ساتھ ایسا حادثہ پیش آیا۔ مگر اصل مسئلہ "قصور" کا نہیں ہے، بلکہ خدا کے تخلیقی منصوبہ کا ہے۔ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس حقیقت کو بتانے کے لیے خالق کائنات نے مختلف انتظامات کیے ہیں۔ انھیں میں سے ایک انتظام یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں زندگی کی غیر مستقل حیثیت کو بتانے کے لیے انتہائی مثال قائم کردی جائے۔ نو عمری کی موت اسی قسم کی ایک انتہائی مثال ہے۔ موت اور حادثہ کے واقعات آنکھیں کھولنے کے لیے پیش آتے ہیں۔ عقل مند وہ ہے جو ان واقعات سے سبق لے بے نادان وہ ہے جو غیر متعلق سوالات میں الجھ کر رہ جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues