Al-Risala · October 1992 · page 22

حفاظتی ڈھال

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۲

حفاظتی ڈھال

قرآن (الانبیاء ۳۲) میں فرمایا گیا ہے کہ ــــــــ اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا (وجعلنا السماء سقفا محفوظا) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان (بالائی فضا) کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت و قدرت سے اس طرح بنایا ہے کہ وہ انسان کے لیے ضرر رساں چیزوں سے حفاظت کا ذریعہ بن جائے۔ اس نظامِ خداوندی کے بے شمار پہلو ہیں۔ تاہم اس کا ایک جز ر تالیا وہ فضائی گیس ہے جس کو اوزون (ozone) کہا جاتا ہے۔

سورج ہماری زمین سے نو کروڑ تیس لاکھ میل دور ہے۔ وہ اتنا بڑا ہے کہ اگر اس کے مادہ کو تقسیم کیا جائے تو اس سے ہماری زمین جیسے بارہ لاکھ کرے بن جائیں گے۔ یہ سورج ہمارے لیے روشنی اور حرارت کا ذریعہ ہے۔ اس سلسلہ میں اس کا موجودہ فاصلہ بے حد اہم ہے، اگر زمین سے سورج کا فاصلہ موجودہ فاصلہ سے کم ہوتا تو اس سے آنے والی روشنی اور حرارت اتنی شدید ہوتی کہ زمین پر کسی ذی حیات کے لیے زندہ رہنا ہی ناممکن ہو جائے۔

سورج کی جو شعاعیں زمین پر آتی ہیں ان میں بعض نہایت مضر اجزاءہوتے ہیں۔ مثلاً ان آفتابی شعاعوں کا ایک جزروہ ہے جس کو الٹرا وایلیٹ شعاعیں (ultraviolet rays) کہا جاتا ہے۔ یہ شعاعیں ذی حیات مخلوق کے لیے سخت مضر ہیں۔ ان سے طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور ان کی زیادتی انسان اور حیوان کو ہلاک کرنے کا باعث بن جاتی ہے۔ الٹرا وایلیٹ شعاعیں مسلسل سورج سے نکل کر زمین کی طرف آ رہی ہیں۔ اس کے باوجود انسان اور حیوان کیوں زمین پر زندہ ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین کے اوپر کئی سو میل کی جو فضا (atmosphere) ہے۔ اس کی مختلف تہوں میں سے ایک تہ وہ ہے جو اوزون گیس پر مشتمل ہے۔

یہ اوزون ایک قسم کی آکسیجن گیس ہے۔ اس کے مخصوص مالیکولر ڈھانچہ کی وجہ سے اس میں یہ صفت پیدا ہوگئی ہے کہ وہ اوپر سے آنے والی الٹرا وایلیٹ شعاعوں کو جذب کرلے اور ان کو زمین کی سطح تک پہنچنے نہ دے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق ، یہی اوزون گیس کی تہ ہے جو انسان کو

‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues

Printed page