Vanishing ozone: The danger comes closer.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۷
دو طریقے
تحریک چلانے کے دو طریقے ہیں۔ ایک دعوت کا طریقہ ، اور دوسرا طریقہ وہ ہے جس کو موجودہ زمانہ میں انقلابی (Revolutionary) طریقہ کہا جاتا ہے ۔ دعوتی طریقہ کا نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ملتا ہے۔ اور انقلابی طریقہ کا نمونہ وہ ہے جو کمیونسٹ پارٹیوں کے یہاں پایا جاتا ہے ۔
آج کل کے مسلمانوں میں انقلابی طریقہ بہت مقبول ہو رہا ہے ۔ ہر جگہ کے مسلمان انقلابی ہتھیاروں سے مسلح ہو کر اپنے مفروضہ حریف کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ جن لوگوں کے حالات گولی اور بم استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں وہ گولی اور بم استعمال کر رہے ہیں ۔ اور جن لوگوں کے حالات میں اس حد تک جانے کا موقع نہیں ہے، وہ لفظی بمباری کے ذریعہ اپنی انقلابی مہم چلانے میں مشغول ہیں ۔
دعوت کا طریقہ نبیوں کا طریقہ ہے اور پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اس کے برعکس نام نہاد انقلابی طریقہ مارکس اور لینن کی سنت ہے۔ یہ ایسی حقیقت ہے جس کو ہر سنجیدہ آدمی جانتا ہے، اسلامی الفاظ یا اسلامی اصطلاحات بول کر اس کو بدلا نہیں جاسکتا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ تمام مسلمان ” انقلابی طریقہ “ کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ کسی کو بھی دعوتی طریقہ سے دل چسپی نہیں ۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انقلابی طریقہ ردِ عمل کا طریقہ ہے، اور دعوتی طریقہ صبر اور اعراض کا طریقہ ۔ اور ردِ عمل کے مقابلہ میں صبر و اعراض بلاشبہ مشکل ترین کام ہے۔ انقلابی طریقہ کی بنیاد دوسروں سے نفرت پر ہے اور دعوتی طریقہ کی بنیاد دوسروں سے محبت پر۔ انقلابی طریقہ عاجلانہ کارروائی کا طریقہ ہے اور دعوتی طریقہ انتظار کا طریقہ ۔ انقلابی طریقہ میں دوسروں کو پتھر مارا جاتا ہے اور دعوتی طریقہ میں خود پتھر کھانے کے لیے تیار ہونا پڑتا ہے۔ انقلابی طریقہ میں شہرت ملتی ہے اور دعوتی طریقہ میں گم نامی ۔ انقلابی طریقہ میں خواہش رہنما ہوتی ہے اور دعوتی طریقہ میں کتاب و سنت کو رہ نما بنانا پڑتا ہے۔ انقلابی طریقہ میں نشانہ خارج میں ہوتا ہے اور دعوتی طریقہ میں نشانہ داخل میں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues