Vanishing ozone: The danger comes closer.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۶
یہی بار بار اسی قسم کے خلا اور نقائص ظاہر ہوتے جو انسانی صنعت میں ظاہر ہورہے ہیں ۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف قرآن میں اس طرح اشارہ کیا گیا ہے : بڑا با برکت ہے وہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔ اور وہ زبر دست ہے ، بخشنے والا ہے۔ جس نے بنائے سات آسمان اوپر تلے۔ تم رحمن کے بنانے میں کوئی خلل نہیں دیکھو گے۔ پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو، کہیں تم کو کوئی خلل نظر آتا ہے۔ پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھو۔ نگاہ ناکام تھک کر تمہاری طرف واپس آجائے گی (الملک ۱۔ ۴)
خلاصہ کلام
اللہ تعالیٰ نے سورج پیدا کیا، سورج کی پیدائش زمین پر انسان کی آبادی سے بہت پہلے ہوئی۔ مگر اللہ تعالیٰ کو پیشگی طور پر یہ معلوم تھا کہ سورج کی شعاعوں کا ایک جزر (الٹرا وایلیٹ) انسان کے لیے مضر ہوگا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے پیشگی طور پر بالائی فضا میں ایک محکم حفاظتی انتظام کر دیا جو انسان کو اس مضر شعاع سے بچا تار ہے۔
دوسری طرف انسانی انجینیروں اور سائنس دانوں نے زمین پر ایک انڈسٹری قائم کی۔ اس انڈسٹری سے ایک ایسی گیس نکلنے والی تھی جو فضا میں بلند ہو کر اس حفاظتی انتظام میں رخنہ پیدا کر دے جو انسان کو مضر آفتابی شعاعوں سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔ مگر انسانی ماہرین کو اس کا علم صرف اس وقت ہوا جب کہ ان کی انڈسٹری کے یہ مضر نتائج عملاً ظہور میں آگئے اور انسان ان کا شکار ہونے لگا۔
یہ تقابلی مثال بتاتی ہے کہ کائنات کی تخلیق نہ صرف یہ کہ ذہن کے بغیر نہیں ہو سکتی، بلکہ انسان جیسی ذہانت بھی اس عمل تخلیق کے لیے ناکافی ہے۔ اس کے لیے مافوق ذہانت (سپر ذہانت) درکار ہے۔ اس قسم کے اعلیٰ ذہن کے بغیر موجودہ با معنی کائنات کبھی وجود میں نہیں آسکتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues