Al-Risala · October 1992 · page 1

Los Angeles riots: Myth lies shattered

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱

مضمون نگار کا تبصرہ ہندوستان کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا امریکہ کے لیے۔ اگر چہ دولت اور طاقت کے اعتبار سے دونوں ملکوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ تاہم جہاں تک مذکورہ مسائل کا تعلق ہے، وہ دونوں جگہ یکساں طور پر پایا جاتا ہے۔

ہندوستان میں بھی ایک طبقہ ہے جو اسی ڈھنگ پر سوچتا ہے جس طرح امریکہ کے سفید فام لوگ سوچتے ہیں۔ ان کے ذہن میں ایک خود ساختہ بھارتیہ ماڈل ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ دوسرے تمام فرقے اور گروہ اسی ماڈل میں اپنے آپ کو ڈھال لیں۔ اس نقطہ نظر کو کچھ لوگ بھارتیہ کرن کا نام دیتے ہیں اور کچھ لوگ اس کو انڈینائزیشن کہتے ہیں۔

مگر یہ ہندوستان میں بھی اسی طرح نا قابلِ عمل ہے جس طرح وہ امریکہ میں نا قابل عمل ہے۔ اس قسم کے ہر نظریہ کا مطلب تاریخی حقیقتوں سے لڑنا ہے۔ اور تاریخی حقیقتوں سے لڑنا ایسا ہی ہے جیسے پتھر کی چٹان سے اپنا سر ٹکرانا اور پھر خود اپنا سر توڑ لینا۔

مضمون نگار نے بجا طور پر امریکی مسئلہ کا حل کلچرل پلور لزم کو بتایا ہے۔ یعنی ملک کے ہر تہذیبی گروہ کو اپنے تشخص پر قائم رہنے کا موقع دینا اور اس کی حوصلہ افزائی کرنا یہی ہندوستان کے مسئلہ کا حل بھی ہے۔ ہندوستان ایک بڑا ملک ہے۔ یہاں مختلف تہذیبی گروہ آباد ہیں۔ ان گروہوں کے تہذیبی تشخص کو مٹانے کی کوشش ملک میں فساد تو بر پا کر سکتی ہے۔ مگر وہ خود تشخص کو ختم کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔

اس لیے حقیقت پسندی یہ ہے کہ ہر ایک کے انفرادی تشخص کو تسلیم کیا جائے۔ ہندوستان کو ایک باغ کی حیثیت دی جائے جہاں طرح طرح کے پھول اور پودے دکھائی دے رہے ہوں نہ کہ صرف ایک پھول اور صرف ایک پودا۔ ہندوستانی سماج کی کامیاب تشکیل صرف تنوع کے اصول پر ہو سکتی ہے، وہ یکسانیت کے اصول پر کبھی نہیں ہو سکتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues

Printed page