سفرنامه ــ ۳
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۰
سفرنامه ــ ۳
یہاں مصر کے مفتی الشیخ طنطاوی نے تذکیری انداز میں دیر تک کچھ باتیں کیں۔ اس میں خصوصی طور پر اسلام کے اخلاقی اور روحانی پہلوؤں کو واضح کیا۔ پھر انہوں نے مغرب کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھایائی۔ آخر میں جزیرہ والوں کے لئے، مسلمانوں کے لئے اور اہل عالم کے لئے سلامتی اور فلاح کی دعائیں کی گئیں۔ یہ عمل تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہا۔
اس نشست کے دوران سوال و اب بھی ہوا۔ شیخ طنطاوی نے اپنی کانفرنس کی تقریر میں کہا تھا کہ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے۔ اسلام میں صرف دفاعی قتال ہے۔ اسلام میں ہجومی قتال نہیں ہے۔ جو لوگ جہاد کے نام پر غیر مسلم اقوام سے لڑائیاں چھیڑے ہوئے ہیں ان سے شیخ طنطاوی نے عدم اتفاق کا اظہار کیا۔
اس پر ایران کے عالم کو اعتراض تھا۔ انھوں نے شیخ طنطاوی سے سوالات کئے۔ شیخ طنطاوی نے نہایت عالمانہ انداز میں ہر سوال کا جواب دیا۔ ایرانی عالم نے یہ حدیث پیش کی کہ امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله ۔ شیخ طنطاوی نے کہا کہ اس کا تعلق قدیم مشرکین عرب سے ہے جنھوں نے پیغمبر کا انکار کیا اور ان کو ان کے وطن سے نکالا۔ اب ہمارے لئے فقاتلوانی سبیل الله الذین یقاتلونکم کا حکم ہے۔ جو قو میں ہمارے خلاف عدوان نہ کریں، ہم بھی ان کے خلاف جہاد نہیں چھیڑ سکتے۔ کیوں کہ قرآن میں ہے کہ فما استقاموا لكم فاستقيموا لهم ۔ مسلم حکومت کے تحت غیر مسلموں کے بارہ میں اسلام کا اصولی حکم انھوں نے یہ بتایا کہ لهم مالنا و علیهم ما علینا۔ مغرب کی نماز کے بعد ہمارا قافلہ دوسرے تعزرات کے ساتھ ایک خاص مقام کی طرف روانہ ہوا۔ یہاں کانفرنس کے شرکاء کے علاوہ لاکھوں کی تعداد میں مالٹا کے عوام جمع تھے۔ یہاں امن کے بارہ میں پوپ کا پیغام پڑھا گیا ۔ ہر مذہب کے پیشواؤں نے امن کی شمع جلائی اور امن کے لئے دعائیں کی گئیں۔ پورا مجمع اس دعا میں شریک رہا۔
کانفرنس کی تھیم مذاہب امن کے سمندر کے لئے (Religions for a sea of peace) peace)مقرر کی گئی تھی۔ یہاں عوام جس بڑی تعداد میں اور جو جوش و خروش کے ساتھ جمع ہوئے وہ گویا ایک " بحر امن " کا مظاہرہ تھا۔ کارروائی کے خاتمہ پر لوگوں نے آپس میں مل کر ایک دوسرے کو مبارک باد دی اور مصافحہ کیا۔ اس موقع پر ان کا خاص کلمه امن (peace) ہوتا تھا جس کو وہ اپنی زبان سے دہراتے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues