سفرنامه ــ ۳
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۲
الجزائر کے ڈاکٹر محمد السلیمانی نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی مذ ہبی تعلیمات کی بنا پر ایسا کرتے ہیں۔ اگر آپ کی انجیل میں یہ لکھا ہو کہ روم میں کسی غیر مذہب کا عبادت خانہ بنانے کی اجازت نہ دی جائے تو میں مسلمانوں سے کہوں گا کہ وہ انجیل کے اس حکم کا احترام کریں اور روم میں ہر گز مسجد بنانے کی کوشش نہ کریں۔ ہندوستان میں اس طرح کے جواب پر مزید سوالات کا طوفان کھڑا ہو جائے گا۔ مگر یہاں سب کے سب اخبار نویس جواب کو سن کر چپ ہو گئے۔ اس کے بعد انھوں نے دوسرا سوال شروع کر دیا۔
ایک اخبار نویس نے سوال کیا کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان ڈائیلاگ کی کامیابی کے بارہ میں آپ کیا کہتے ہیں۔ کیوں کہ آپس کے اختلافات کی وجہ سے یہ کوشش آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔ پھر ہمیں کیا کرنا چاہئے ۔ میں نے کہا کہ ایک جملہ میں اس کا جواب یہ ہے کہ اختلاف کو نظر انداز کیجئے اور اتحاد کے گوشوں کی تلاش جاری رکئے :
I will give the answer in a single sentence: avoid the differences and continue the dialogue to seek the points of agreement. ۹ اکتوبر کو شام کی نشست کا عنوان تھا : مذہب اور کلچر (Religion and Culture) بحیثیت چیئر مین میں نے مختصر تقریر کی۔ اس کے بعد مذکورہ موضوع پر لوگوں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
یہاں کے اجتماعات میں عورت اور مرد کثیر تعداد میں جمع ہوتے تھے۔ ان میں سے ہر ایک پڑھا لکھا ہوتا تھا۔ مگر میں نے کسی بھی اجتماع میں غیر ضروری سوال و جواب کا وہ انداز نہیں دیکھا جو ہندوستان جیسے ملکوں میں عام ہے۔ یہاں تمام لوگ ذوق وشوق کے ساتھ اسٹیج کی تقریروں کو سنتے اور اس کے بعد یہ اصرار نہیں کرتے کہ ہم کو ہر قسم کے سوال کرنے کا موقع دو۔
ہوٹل کے کمرہ میں حسب معمول گیڈ بینتر (The Gideons International) کی طرف سے ہدیہ کی ہوئی بائبل بھی موجود تھی ، ۱۸۹۸ میں امریکہ کے دو مسافروں نے طے کیا کہ وہ تمام دنیا کے ہوٹل ، اسپتال وغیرہ میں بائبل (انجیل) کے نسخے مختلف زبانوں میں چھاپ کر فراہم کریں گے ۔ اس وقت سے آج تک یہ کام جاری ہے۔ اس طرح عالمی پیمانے پر تمام دنیا میں مسیحیت کا پیغام پہنچایا جا رہا
‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues