سفرنامه ــ ۳
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۱
یہاں سے ہم لوگ پیدل چل کر ایک بڑے میدان میں لے جائے گئے۔ یہاں مخصوص انداز میں عمومی اجتماع کا انتظام تھا منتظمین اس کو " دعائیہ اجلاس کہتے ہیں۔ اس دعائیہ اجلاس میں عوام اسی طرح بڑی تعداد امڈ آئے تھے جس طرح تبلیغی جماعت کے جلسوں میں دعا کے وقت بستی کے ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔
غالباً ۱۹۴۲ میں پنڈت جواہر لال نہرو منو (یوپی) آئے تھے۔ وہاں ان کا جلسہ تھا۔ میں بھی وہاں گیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب کہ میں نے کوئی بڑا جلسہ دیکھا۔ یہ بلا مبالغہ انسانوں کا جنگل تھا۔ بیٹر کی اس کیفیت کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
یہی احساس ، اکٹوبر کے مذکورہ دعائیہ اجتماع میں بھی ہوا۔ تاہم یہ صرف بھیڑ نہ تھی بلکہ نہایت منظم اور نہایت منصوبہ بند قسم کا ایک عظیم الشان اجتماع تھا۔ اس کو دیکھ کر دوبارہ مجھے احساس ہوا کہ اس منظر کو اگر میں لفظوں میں بیان کرنا چاہوں تو میں اس کو الفاظ کی صورت میں بیان نہیں کر سکتا۔ اس کو یا تو براہ راست مشاہدہ کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے یا ٹی وی پر بالواسطہ مشاہدہ کے ذریعہ۔ اس طرح کے تجربات کے بعد مجھے خیال آتا ہے کہ جنت کی زندگی کے پرمسرت لمحات میں ایک لمحہ غالباً وہ بھی ہو گا جب کہ آدمی اپنے جنتی مکان میں "جنتی ٹی وی پر پچھلے انبیاء کے واقعات کو دیکھے گا۔ پیغمبروں کی زندگی حیرت ناک واقعات کی زندگی ہے۔ ہم اس کو لفظوں کی صورت میں کتاب میں پڑھتے ہیں۔ مگر الفاظ ان کا پورا تعارف نہیں کرتے۔ جنت کا ایک آدمی اپنے " جنتی ٹی وی " کا بٹن دبا کر جب ان کو دیکھے گا تو وہ فرحت کا ایک ایسا تجربہ ہو گا جس کا آج کی دنیا میں اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ ۹اکتوبر کی دوپہر کو میڈیٹرینین سنٹر کے ایک ہال میں پریس کانفرنس ہوئی۔ روم سے ۸۰ روزنامے نکلتے ہیں۔ ان میں سے بارہ اخباروں کے نمائندے پریس کانفرنس میں موجود تھے۔ جواب دینے والوں میں میرے سوا دو الجزائری مسلمان تھے اور ایک سوڈان کے اور ایک ایران کے عالم۔ سوالات اطالوی زبان میں کئے گئے۔ جن کا ترجمہ ایک مسیحی پادری نے عربی زبان میں کیا۔ سوالات زیادہ تر مسلم - مسیحی تعلقات کے بارے میں تھے۔
پریس کانفرنس میں روم کے ایک اخباری نمائندہ نے سوال کیا کہ مسیحی لوگوں نے روم میں مسجد بنانے کی اجازت دے دی۔ پھر مسلمان مسیحیوں کو مکہ مدینہ میں چرچ بنانے کی اجازت کیوں نہیں دیتے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues