Al-Risala · October 1992 · page 34

سفرنامه ــ ۳

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۴

اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ اس دنیا میں یہ بھی ممکن ہے کہ ایک سراسر خلاف واقعہ بات کو تصویریا الفاظ میں اس طرح ظاہر کیا جائے کہ عام انسان کو وہ بالکل حقیقی واقعہ نظر آنے لگے۔ مدینہ کے راستوں میں چلتے ہوئے ایک گلی کے کنارے ایک بورڈ لگا ہوا نظر آیا۔ اس پر لکھا ہوا تھا Tariq Mesquita یعنی مسجد کا راستہ یا مسجد اسٹریٹ۔ اس گلی میں کافی تلاش کے باوجود کوئی مسجد نظر نہیں آئی، غالباً قدیم زمانہ میں یہاں کوئی مسجد تھی جس کے نام پر یہ گلی مسجد والی گلی مشہور ہو گئی۔ مگر اب وہ مسجد کسی مکان کا حصہ بن چکی ہے۔ اگرچہ گلی کا نام اب بھی وہی ہے جو پہلے تھا۔ میرے ساتھی ڈاکٹر محمد السلیمانی الجزائری نے مالٹا کی ان چیزوں کو دیکھ کر کہا کہ طمسوائل شیئی۔ یعنی مسیحیوں نے یہاں غلبہ پانے کے بعد تمام مسلم آثار کو مٹا دیا۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ بلکہ یوں کہئے کہ طمسناکل شئی یعنی ہم نے خود اپنی غفلت سے لوگوں کو یہ موقع دیا کہ وہ ہماری تمام چیزوں کو مٹا دیں۔

راستہ میں ہمارے ڈرائیور نے ایک جگہ بتایا کہ اس درخت کو مسیحی لوگ " سجرۂ صلیب" کہتے ہیں۔ یعنی صلیبی درخت۔ کیوں کہ وہ بالکل صلیب کی شکل کا ہے۔ ہم نے اتر کر اس درخت کو بہت غور سے دیکھا۔ مگر ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ اس قسم کے تو ہمات ہر قوم میں پائے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ خود مسلمانوں میں بھی۔

اس کے بعد ہم ایک بڑی عمارت کے سامنے پہنچے۔ اس پر وار میوزیم کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ اس میں پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے زمانہ کی بہت سی یادگار چیزیں رکھی ہوئی تھیں۔ کچھ حقیقی اور کچھ تصویر کی صورت میں۔ ایک جگہ یہاں کے گول چرچ کی تصویر تھی۔ اس کے پاس قدیم طرز کے ایک بم کی تصویر تھی جس کے پاس بہت سے لوگ کھڑے ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ تختی پر لکھا ہوا تھا کہ دوسری عالمی جنگ میں ۹ اپریل ۱۹۴۲ کو جرمنی نے یہ بم گول چرچ پر گرایا مگر وہ بم پھٹ نہ سکا : During an air attack on 9th April 1942, a 500 Lb. bomb hit the Mosta Rotunda. It pierced the dome, bounced off the interior wall twice and skidded across the whole length of the Church without exploding. None of the congregation numbering over 300 was injured.

‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues

Printed page