سفرنامه ــ ۳
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۵
یہ دعوتی شعور کی کمی ہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ مولانا محمود حسن صاحب جس زمانہ میں مالٹا میں نظر بند تھے۔ ان کے حراستی عملہ کا انگریز افسران سے متاثر ہوگیا۔ کیوں کہ ان کے مشرقی انداز میں اس کو روحانی شخصیت کا حلیہ نظر آیا۔ یہ بہترین موقع تھا کہ اس انگریز کو اسلام کے قریب لایا جائے ۔ مگر مولانا محمود حسن صاحب نے اس سے خلافت کے معاملہ میں انگریزوں کے ناروا سلوک پر بحث چھیڑ دی جو ایک سیاسی • اور اختلافی موضوع تھا۔ چنانچہ وہ انگریز مزید اسلام سے قریب نہ ہو سکا۔
مالٹا میں مولانا محمود حسن کے تین ساتھیوں میں سے ایک مولانا وحید احمد مدنی تھے۔ وہ ہندوستان سے ہجرت کرکے عرب چلے گئے تھے۔ وہاں مولانا محمود حسن صاحب سے وابستہ ہوگئے اور پھر ان کے ساتھ گرفتار ہوکر مالٹا چلے گئے۔ مولانا موصوف کے صاحبزادے ڈاکٹر رشید الجیدی دہلی میں ہیں اور مولانا فرید الوحیدی جدہ میں مقیم ہیں۔ مولانا وحید احمد مدنی کا حافظہ نہایت قوی تھا۔ مختلف لوگوں سے تعلقات کے دوران انھوں نے کئی زبانیں سیکھ لیں ۔ عربی، اردو، فارسی، انگریزی، ترکی، فرانسیسی، پشتو، بنگلہ وغیرہ ۔ اگر ان کے اندر دعوتی اسپرٹ پیدا کی جاتی تو وہ کامیاب داعی بن سکتے تھے۔ مگر ان کی لیاقت غیر استعمال شدہ رہی۔ یہاں تک کہ دسمبر ۱۹۳۸ میں ۴۵ سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues