Al-Risala · October 1992 · page 38

سفرنامه ــ ۳

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۸

لکڑی کا گھاس دستی مشین کے ذریعہ کاٹ رہا تھا۔ وہ اپنے کام میں اس قدر مشغول اور منہمک تھا جیسے کہ اس کو اس کے سوا اور کسی چیز کی خبر ہی نہیں۔ جب کہ ہندوستان کے ”مالی“ کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اس کو سب سے زیادہ دلچسپی دوسرے کام سے ہوتی ہے اور سب سے کم دلچسپی اپنی ڈیوٹی والے کام سے۔

۱۱ اکتوبر کو ہم مالٹا کے ایک قدیم چرچ میں داخل ہوئے۔ یہ صبح نو بجے کا وقت تھا۔ اس وقت چرچ کے اندر سروس (عبا دت) ہو رہی تھی۔ گیٹ کے پاس نوٹس بورڈ پر جلی حرفوں میں یہ الفاظ : WAQT IL-QUDDIES لکھے ہوئے تھے۔ غالباً اس کا مطلب وقت القدیس تھا۔

چرچ کے ہال میں چاروں طرف مجمع لگے ہوئے تھے۔ ان میں دوسرے مسیحی پیشواؤں کے علاوہ مریم اور مسیح کا بھی مجسمہ تھا۔ اسٹیج کے مقام پر چند پادری کچھ پڑھ رہے تھے اور بار بار جھک کر اپنا سر میز پر رکھتے تھے۔ حاضرین سامنے کی بنچوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔

اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ مسیحی عبادت اور اسی طرح دوسرے مذاہب کی عبادت کا طریقہ انسان کی روح کو مطمئن نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ انسان عین فطرت کے اعتبار سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے خالق کے آگے پوری طرح ڈال دے۔ اور ان طریقوں میں انسان صرف جزئی طور پر اپنے آپ کو اپنے خالق کے سامنے پیش کرتا ہے ، وہ پوری طرح اپنے آپ کو خدا کے حوالے نہیں کر پاتا۔

۱۰ اکتوبر کو شام کے کھانے کے لئے ہم لوگوں کو ایک مقام پر پہنچایا گیا۔ معلوم ہوا کہ یہ ”بشپ پلیس“ ہے۔ یہ بہت بڑا محل کی مانند ایک مکان تھا۔ تاہم وہ بالکل سادہ تھا۔ یہ یہاں کے بشپ کی قیام گاہ ہے۔ یہاں لوگوں نےمالٹا کے مخصوص انداز میں کھانا کھایا۔ ملاقاتیں کیں اور پھر واپسی ہوئی۔

مالٹا کے انگریزی اخبا ر دی ٹائمس (۸ اکتوبر ۱۹۹۱) میں یہ خبر تھی کہ یہاں کے سابق پولیس کمشنر کممنڈیٹور بنسینی (commodatore Algred J. Bencini) کا ۷۴ سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ وہ ۱۹۳۹ میں مالٹا پولیس فورس میں شامل ہوئے تھے۔

کممنڈیٹور بنسینی نے اپنی خود نوشت سوانح عمری لکھی ہے جو ۔ سپاہی کے سوا اور کچھ نہیں 38 العالم اکتوبر ۱۹۹۲

‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues

Printed page