سفرنامه ــ ۳
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۰
نہ ہو اس کو پورے معنوں میں کلمہ شہادت کی ادائیگی نہیں کہا جاسکتا۔
11 اکتوبر کی دوپہر کو ہم واپس ہو کر دوبارہ مالٹا ایئر پورٹ پہنچے۔ یہاں کچھ وقت وی آئی پی لاؤنج میں گزرا ضروری اندراجات کا سارا کام ہمارے میزبان نے کیا۔ ساڑھے بارہ بجے ہوائی جہاز میں سوار ہونے کے لئے نکلا۔ یہ ایئر مالٹا کی فلائٹ (KM 220) تھی۔ جہاز کے دروازہ پر پہنچا تو وہاں دروازہ کے کنارے حسب ذیل دو لفظ لکھے ہوئے تھے۔ (Iftah / Open) ہوائی جہاز کے اسٹاف کے ایک آدمی سے میں نے پوچھا کہ " افتح " کیا مالٹی زبان ہے۔ اس نے کہا ہاں۔ پھر اس نے کہا کہ مالٹی زبان بہت زیادہ عربی زبان سے مشابہ ہے:
Malti language is very similar to Arabic language. جہاز کے مسافروں میں زیادہ تعداد سیاحوں کی تھی۔ مالٹا میں سیاح بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ مالٹا کی آمدنی کا خاص ذریعہ سیاحت ہے۔ اس کے مقابلہ میں ہندوستان کو سیاحت انڈسٹری کا بہت کم حصہ ملتا ہے۔ اس کی دو خاص وجہیں ہیں۔ ایک یہ کہ سیاح یہاں اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔ مختلف قسم کی پرتشدد تحریکوں نے سیاح کو ہندوستان کی طرف سے متوحش بنا دیا ہے۔ دوسری اس سے بھی زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ ہندوستان کا نظام سیاحوں کے لئے اسی طرح غیر ہمدرد ہوتا ہے جس طرح وہ عام ہندوستانیوں کے لئے غیر ہمدرد ہے۔ سیاح اکثر ہندوستان سے تلخ دفتری اور انتظامی تجربات لے کر واپس لوٹتے ہیں۔ جہاز کے اندر ایئر مالٹا کی فلائٹ میگزین (Melta) کے شمارہ اکتوبر 1991 میں ایک مضمون مالٹا میں ٹیلی کارڈ کو رائج کرنے کے بارہ میں تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ فائر، پولیس اور ایمبولنس جیسے ایمرجنسی نمبروں کو ڈائل کرنے کے لئے کوئی رقم ادا کرنے کی ضرورت نہیں :
One does not need to insert a card to dial the emergency numbers مذکورہ مضمون میں بتایا گیا تھا کہ مالٹا میں سیاحوں کے لئے بہت سی رعایتیں ہیں۔ مذکورہ رعایت ان میں سے صرف ایک ہے۔
ہمارا جہاز 33 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتا ہوا مالٹا سے قاہرہ کی طرف روانہ ہوا۔ راستہ میں ہم جزیرہ کریٹ (Crete) سے گزرے۔ کریٹ کو دیکھ کر ماضی کی بہت سی یادیں تازہ ہوگئیں
‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues