Al-Risala · October 1992 · page 42

سفرنامه ــ ۳

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۲

انھوں نے بتایا کہ ۸۶ سال۔ میں نے کہا کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ ۸۶ سال میں اتنی اچھی حالت میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ الحمد للہ۔

سماجی تعلقات کے سلسلہ میں اس کی بے حد اہمیت ہے۔ دوسرا گروہ بھی اگر کلچر میں ایک دوسرے سے مختلف ہواں تو ان کے درمیان معتدل تعلقات مشکل ہو جائیں گے۔ اس کی مثال سابق پاکستان میں بنگالی اور پنجابی تعلقات اور موجودہ پاکستان میں سندھی اور مہاجر تعلقات میں دیکھی جاسکتی ہے۔ ہندوستان کے مسلمان چاہتے ہیں کہ وہ اکثریتی فرقہ سے الگ اپنا کلچر کل تشخص قائم کریں۔ اصولاً یہ کوئی غلط بات نہیں۔ مگر ہم کو جاننا چاہئے کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہے اور کسی مشترک سماج میں علیحدہ تشخص قائم کرنے کی بھی ایک قیمت ہے۔ اس دنیا میں قیمت دیے بغیر کوئی چیز کسی کو نہیں ملتی۔ سندھ کے مہاجرین نے اپنا علیحدہ گروہ ہی تشخص قائم کرنا چاہا مگر وہ اس کی قیمت دینے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ اس کا جو نتیجہ ہو وہ ہر ایک کو معلوم ہے۔

جو سوال میں نے جارج اناواتی سے پوچھا تھا۔ وہی سوال میں نے قاہرہ میں محمد کمال صاحب سے کیا۔ میں نے پوچھا کہ کیا یہاں کلچر کے اعتبار سے مسلمان اور مسیحی میں فرق ہے۔ اگر ہم ایک مسیحی سے سڑک پر ملیں اور اس سے بات کریں یا اس کے ساتھ چل کر اس کے گھر میں داخل ہوں تو کیا ہم اس کی زبان اور رہائش میں اور مسلمان مصری کی زبان اور رہائش میں فرق محسوس کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں، کوئی فرق نہیں۔ سو اس کے کہ ہم مسجد میں جاتے ہیں اور وہ چرچ میں جاتے ہیں۔ اس کے سوا دونوں میں کوئی فرق نہیں (لیس ھناك اتى فرق)

کولمبس ایک اطالوی ملاح تھا جس نے مشہور روایت کے مطابق امریکہ کو دریافت کیا۔ اس کی کشتیوں کا بیڑا ۱۲ اکتوبر ۱۴۹۲ کو امریکہ (Bahamas) کے ساحل پر پہنچا تھا۔ اس اعتبار سے اس واقعہ پر اب پانچ سو سال گزر چکے ہیں۔

الیتالیا کے اشاعتی شعبہ نے اس مناسبت سے ۱۳۰ صفحات کا خصوصی نمبر (92 Colombo) شائع کیا ہے۔ اس میں کولمبس کو عالمی اطالوی (Universal Italian) کا لقب دیا گیا ہے۔ ایک مضمون (The Dawn of Modern Age) کے تحت بتایا گیا ہے کہ ۵۰۰ سال پہلے کولمبس کی دریافت امریکہ کے ذریعہ ایک نئے جغرافی، علمی، اخلاقی اور افق کا راستہ کھل گیا:

‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues

Printed page