Al-Risala · October 1992 · page 43

سفرنامه ــ ۳

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۳

خالص تاریخی اعتبار سے اصل حقیقت یہ ہے کہ دورِ جدید کی صبحِ اسلام کے ظہور کے وقت چودہ سو سال پہلے طلوع ہوئی۔ یہ دراصل توحید پر مبنی اسلامی انقلاب تھا جس نے انسان کے اوپر تمام جدید ترقیوں کے دروازے کھولنے کے تحفیل کے لئے؛ اسلام دورِ جدید کا خالق)

ایک ممسلمان پروفیسر سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے عربوں کے بارے میں یہ شکایت کی کہ وہ یورپ اور امریکہ کے سفید فام لوگوں سے بہت مرعوب ہیں۔ یہاں کی ایک اصطلاح ہے جس کو عقدة الخواجہ (White man Complex) کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ اس مرعوبیت کو بتاتا ہے جو موجودہ عربوں کو سفید فام امریکیوں یا یورپی روپینوں کے بارے میں ان کے اندر ہے۔ ایئر پورٹ پر سفید فام امریکی کو "ویلکم کے ساتھ مسکراہٹ ملے گی۔ مگر ہندوستانی، پاکستانی یا بنگلہ دیشی مسلمان کا استقبال صرف خشک دفتر یت سے کیا جائے گا۔ یہی فرق ہر سطح پر پایا جاتا ہے۔ حتی کہ تنخواہوں میں بھی دونوں طبقوں کے درمیان واضح امتیاز موجود ہے۔

تا ہم مجھے ذاتی طور پر اس کی شکایت نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کا تفریقی سلوک حقیقہ سفید فام یا سیاہ فام کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ بلکہ قومی امیج کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ ” سفید فام امریکی“ نے اپنے تین سو سالہ عمل سے اپنی ایک اعلیٰ عمومی امیج بنائی ہے۔ بدقسمتی سے ایشیائی اور افریقی سلمان اپنے حق میں اس قسم کی امیج نہ بنا سکے۔ ایسی حالت میں نا ممکن ہے کہ ہماری کوتاہی کی قیمت کوئی دوسرا ادا کرے۔

مادی اور ٹکنیکل ترقیات کے علاوہ عام اصول حیات میں بھی ایشیائی اور افریقی مسلمان ان سفید فام قوموں سے پیچھے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ لوگ اپنا کام حد درجہ پلاننگ کے ساتھ کرتے ہیں جب کہ ہمارے یہاں ابھی تک تصور کے درجہ میں بھی پلاننگ کا کوئی وجود نہیں۔ ایسی حالت میں اگر بین اقوامی سلوک میں دونوں کے درمیان فرق پایا جائے تو یہ عین مطابق حقیقت بات ہے۔ ہمیں چاہیے کہ خود اپنی کوتاہیوں کو دور کریں نہ کہ دوسروں کے خلاف احتجاج کرنے میں اپنا وقت ضائع کریں۔ قاہرہ کے ہوائی اڈہ پر جہاز اترا تو مسافروں نے تالیاں بجائیں۔ ہوائی جہاز جب فضا

‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues

Printed page