سفرنامه ــ ۳
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۵
منزلہ مکان تھا جس کی آخری منزل پر موصوف کا قیام ہے۔ ہم گاڑی سے باہر آئے تو سامنے پھلوں کی دکان تھی جو مذکورہ مکان کی زمینی منزل پر واقع ہے۔ ہم لوگ کل چار آدمی تھے۔ دکاندار الفور اپنی دکان سے اٹھنے اور کیلئے کھیل کھیل کر ہر ایک کو پیش کرنا شروع کیا۔ میں نے کہا کہ یہ عرب اخلاق کا پہلا نمونہ ہے جس کا تجربہ یہاں پہنچ کر ہم کو ہو رہا ہے۔ کچھ وقت شیخ اسحاق اور لیس سودانی کے مکان پر گزارنے کے بعد وہاں سے روانہ ہوئے۔
رات کو عشا کے وقت ہم اپنی قیام گاہ (زہرا حلوان) پہنچے۔ یہ ڈاکٹر عبد العلیم عویس کا مکان ہے۔ انہی کی دعوت اور اصرار پر مصر کا یہ سفر پیش آیا۔ وہ ریاض کی جامعۃ الامام میں علوم اجتماعی کے شعبہ میں استاد ہیں۔ ان کی کئی کتا بیں شائع ہو چکی ہیں۔
ابن خلدون ۱۳۸۲ ء میں قاہرہ آیا تھا۔ اس وقت بحری راستہ کے ذریعہ تیونس سے اسکندریہ (مصر) پہنچنے میں ابن خلدون کو چالیس دن لگے۔ چند روز اسکندریہ ٹھہر کر وہ قاہرہ پہنچا۔ آج مواصلات کی ترقی نے سفر کی مدت کو کتنا زیادہ گھٹا دیا ہے۔ یہ مواصلاتی ترقیاں شاید اسی لئے ہیں کہ لوگوں کو اہل جنت کے سفروں کا تعارف کرایا جائے جو زمین و آسمان کی وسعتوں میں بلا خوف تیز رفتاری کے ساتھ جاری رہے گا ( آل عمران ۱۳۳)۔
اگرچہ قاہرہ کی تاریخ پانچ ہزار سال تک جاتی ہے۔ مگر موجودہ شہر صحابی رسول عمر و بن العاص نے ۶۴۱ میں بسایا۔ اس وقت اس کا نام الفسطاط تھا۔ اسی سال انھوں نے مصر کی پہلی مسجد اسی شہر میں بنائی جو اب بھی مسجد عمر و بن العاص کے نام سے مشہور ہے۔ ۱۹۷۰ء میں شہر کی نئی تعمیر ہوئی۔ اس وقت سے اس کا نام القاہرہ ہے۔
۱۷۹۸ء میں جب نپولین قاہرہ میں داخل ہوا اس وقت شہر کی آبادی تین لاکھ (300,000) سے کم تھی۔ آج قاہرہ کی آبادی تقریباً ۸۰ لاکھ ہو چکی ہے۔
"دار الصحوة" کو تفصیل کے ساتھ دیکھنے کا موقع ملا۔ اس کو ڈاکٹر عبد العلیم عویس (جامعۃ الامام ریاض) نے ۱۹۸۰ میں قاہرہ میں قائم کیا۔ اس کے موجودہ انچارج محمد کمال عبد رب النبی ہیں۔ محمد کمال صاحب میں واقعی کمال کے اوصاف ہیں۔ قاہرہ میں ڈاکٹر عبد العلیم عویس اور محمد کمال عبد رب النبی کے خصوصی تعاون کی وجہ سے ہم کو بہت آسانی ہوئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues