خبرنامه اسلامی مرکز
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۸
"علماء کارول" نامی ایک کتابچہ تیار ہوا ہے۔ وہ انشاء اللہ الرسالہ میں بطور نمبر شائع کیا جائے گا۔ اس میں تنقیدی جائزہ بھی ہے اور علما کے صحیح رول کی نشاندہی بھی۔ مسٹر ایس شفیع احمد (Cuddapah 516001) اپنے خط میں لکھتے ہیں : I happened to go through your much esteemed monthly magazine Al- Risala and I finished its reading in one sitting as the contents therein were so thought provoking and enlightening that my words are too poor to express my deep appreciation for the unforgettable services being rendered by a great reformer like you in bringing about healthy transformation in the attitude and outlook of the Muslim community which seems to have lost a clear sense of direction and vision of their future in the face of rapidly changing global situation. ، ۱ اگست ۱۹۹۲ کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ایک سیمینار تھا۔ اس سیمینار کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اس کا عنوان تھا : امپروونگ ہند و مسلم ریلیشنز (Improving Hindu-Muslim relations) اس میں دہلی کے اعلی تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ صدر اسلامی مرکز نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہر آدمی اپنی فطرت کے اعتبار سے انسانیت دوست اور امن پسند ہوتا ہے۔ اگر لوگوں کو ان کی فطرت پر رہنے دیا جائے تو عام حالات میں وہ اچھی طرح ہی رہیں گے۔ انسانی تعلقات میں بگاڑ فطرت سے ہٹنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس لیے اچھا سماج بنانے کے لیے ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ بگاڑنے والے عنصر کو ہٹا کر یہ موقع پیدا کر دیں کہ لوگ اپنی اصل فطرت پر زندگی گزارنے لگیں۔
کلکتہ سے مسز نذیر لکھتی ہیں : مجھے الرسالہ کا ایک پرانا پرچہ ملا۔ پڑھ کر بے انتہا مسرت ہوئی۔ اس کے بعد رسالہ کی خریدار بن گئی۔ اور ساتھ ساتھ اپنی بیٹی رفعت جاوید کے نام سے رسالہ جاری کروا دیا۔ الرسالہ حقیقت تک پہنچنے کا سیدھا راستہ بتاتا ہے وہ حق کی پہچان کراتا ہے اور انسانوں کا بھلا چاہتا ہے۔ اس کی سادہ اور صاف تحریر دل میں اتر جاتی ہے۔ اس رسالے میں قرآن و حدیث دنیا و آخرت کی حقیقتیں سبق آموز واقعات اور با اصول زندگی گزارنے کے بہترین نسخے ہیں۔ اس کے مضمون اپنے درس میں خواتین کو سناتی ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues