خبرنامه اسلامی مرکز
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۷
اللہ کے فضل سے الرسالہ کا مشن روز بروز پھیل رہا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اس سے متاثر افراد اسی انداز پر پرچے نکال رہے ہیں یا اسی انداز میں کتابیں شائع کر رہے ہیں۔ انھیں میں سے ایک مولا نا عبد الرؤف گلاب سرینگر ، کشمیر ہیں۔ انھوں نے جنت اور اہل جنت، اور جہنم اور اہل جہنم کے نام سے کتابیں شائع کی ہیں۔ ان کتابوں میں انذار و تبشیر کے انداز میں دعوت کو پیش کیا گیا ہے۔
کتابوں کا ایک سیٹ تیار کیا جارہا ہے۔ انشاء اللہ وہ تین الگ الگ کتاب کی صورت میں تین جلدوں میں شائع ہو گا ۔ پہلی جلد انبیاء سابقین کے بارہ میں ۔ دوسری جلد پنیر آخر الزماں کے بارہ میں اور تیسری جلد صحابہ کرام کے بارہ میں ۔
ایک صاحب لکھتے ہیں : میں گزشتہ سال سے الرسالہ کا قاری ہوں۔ اور مسلسل استفادہ حاصل کر رہا ہوں۔ اور بلاشبہ یہ موجودہ تنزل کے دور میں نہایت عمدہ اقدام ہے۔ اس کا قاری اسے پڑھ کر اپنی بیتی ہوئی زندگی کا محاسبہ کرتا ہے کہ اس سے کیا صحیح اور کیا غلط اقدامات سرزد ہوئے۔ اور میں نے خود بہت سے نازک مواقع پر مثبت اقدامات اور طرز فکر کو ترجیح دی ہے احمد طیب خاں ، راپور)
الرسالہ کا مستقل قاری ہوں۔ پڑھ کر تسلی نہیں آتی ہے۔ ایک پرچہ وصول کرکے دوسرے کاشدت سے انتظار رہتا ہے۔ الرسالہ ایک سدا بہار تحریری غذا ہے۔ لوگوں کو اس سے لاکھ اختلاف سہی ، مگر اس رسالہ کی افادیت سے انکار تاریخ کی بد ترین غلطی ہوگی۔ ان شاء اللہ آئندہ مفصل لکھوں گا۔ (غلام حسن، نگر وسا)
ایک صاحب لکھتے ہیں : اتفاقاً آپ کا رسالہ الرسالہ (دسمبر ۱۹۹۱) میں نے پڑھا۔ نہایت خوبصورت اور بہت اچھا ہے۔ اس کی تعریف لفظوں میں نہیں کی جا سکتی۔ اس کو پڑھ کر دل کو بہت سکون اور اطمینان ملا۔ اس کو پڑھ کر دل کا کمل کھل اٹھا ہے۔ آپ نے حدیث اور دین و دنیا پر بہت اچھی معلومات دی ہیں۔ کاش مجھے اس کے بارے میں پہلے سے معلوم ہوتا۔ اس میں آدمی کی زندگی بدل ڈالنے کی طاقت ہے نثار احمد خاں ، بلڈانہ)
‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues