Al-Risala · November 1992 · page 8

صحابی کا عمل

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۸

صحابی کا عمل

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ یہاں ہم بخاری اور ترمذی کے الفاظ نقل کرتے ہیں: عن ابی بکرۃ رضی الله عنه قال - لقد نفعنی حضرت ابو بکرۃ کہتے ہیں کہ اللہ نے ایک قول کے ذریعہ الله بكلمة سمعتها من رسول الله صلى الله مجھ کو جنگ جمل کے زمانہ میں فائدہ پہنچایا۔ قریب عليه وسلم ایام الجمل بعد ما كدت أن الحق تھا کہ میں اصحاب جمل سے مل جاؤں اور ان کے ساتھ باصحاب الجمل فأقاتل معهم - قال لما بلغ جنگ کروں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أهل فارس وسلم کو یہ بات پہنچی کہ اہل فارس نے اپنے اوپر کسریٰ ملكوا عليهم بنت كسرى قال : لن يفلح قوم کی لڑکی کو حاكم بنایا ہے تو آپ نے فرمایا کہ وہ قوم ہرگز ولوا امرهم امرأة (رواه البخاري) فلاح نہیں پائے گی جو عورت کو اپنے معاملہ کا حاکم بنائے۔ وفى رواية الترمذى قال : عصمنی الله عزوجل ترمذی کی روایت کے مطابق انھوں نے کہا کہ اللہ نے بشئي سمعته من رسول الله صلى الله عليه مجھے ایک چیز کے ذریعہ بچا لیا جس کو میں نے رسول اللہ وسلم - لما هلك كسرى قال من استخلفوا - صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ جب کسریٰ کی موت ہوئی قالوا ابنته - فقال النبی صلى الله عليه وسلم تو آپ نے پوچھا کہ انھوں نے کس کو اس کا جانشین وسلم : لن يفلح قوم ولوا امرهم امرأة بنایا۔ لوگوں نے کہا کہ اس کی لڑکی کو۔ رسول اللہ صلی اللہ فلما قدمت عائشة، يعنى البصرة، علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پائے گی جو ذكرت قول رسول الله صلى الله علیه وسلم عورت کو اپنے معاملہ کا حاکم بنائے۔ راوی کہتے ہیں کہ فعصمنی الله به - جب عائشہ بصرہ آئیں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کو یاد کیا تو اللہ نے اس کے ذریعہ سے مجھ کو بچا لیا ۔

حضرت عائشہ کی حیثیت ام المومنین کی تھی۔ اس کے باوجود جب عائشہ کی بات اور رسول کی بات میں ٹکراؤ ہوا تو صحابی نے عائشہ کو چھوڑ کر رسول کی بات کو پکڑ لیا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے ”اکابر“ کا ساتھ دیتے ہیں، خواہ ان کے اکابر کی روش قرآن وسنت کے تقاضوں کے سراسر خلاف ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues

Printed page