Al-Risala · November 1992 · page 9

نفسیاتی قلعہ

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۹

نفسیاتی قلعہ

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أمُرُکم رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں تم کو زیادہ بذکر الله كثيراً وَمَثَلُ ذلك كمَثَل سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے کی تلقین کرتا ہوں اور رَجُلٍ طَلَبَهُ العَدُوُّ سِراعاً حتى أتى اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی کا اس کے حصناً حَصِيناً فَأَحْرَزَ نَفْسَهُ مِنْه دشمن نے تیزی سے پیچھا کیا۔ یہاں تک کہ وہ وَکَذٰلِكَ العَبْدُ لا يَمنِ جُوَا مِنَ الشَّيْطَانِ بھاگ کر ایک مضبوط قلعے میں داخل ہو گیا۔ اس إلا بِذِكرِ الله . (الترمذى)

کے ذریعہ شیطان سے بچ سکتا ہے۔

یہ حدیث بتاتی ہے کہ انسان کو سب سے زیادہ گمراہ کرنے والا اس کا دشمن شیطان ہے۔ اس سب سے بڑے دشمن سے بچنے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ آدمی ہمیشہ اللہ کا ذکر کرتا رہے۔ ذکر سے مراد کچھ مقرر کلمات کا ورد نہیں ہے۔ اس قسم کی لسانی ورزش کا مذکورہ ذکر سے کوئی تعلق نہیں۔ معروف قسم کا ورد یا حکیمانہ الفاظ کسی بھی درجہ میں آدمی کو شیطان کے بہکاوے سے بچانے والے نہیں اور نہ وہ کسی کے لئے شیطانی حملوں کے مقابلہ میں حفاظت کا قلعہ بن سکتا ہے۔ ذکر سے مراد دراصل یاد ہے۔ یعنی اللہ کے تصور کا آدمی کے ذہن پر اتنا غلبہ ہو جائے کہ وہی اس کی مستقل سوچ بن جائے۔ آدمی کو ہر وقت خدا کے کمالات اور اس کی عظمتوں کا احساس ہوتا رہے: دنیا کے ہر منظر میں اس کو خدائی جھلک دکھائی دے۔ کائنات کی ہر آواز میں اس کو خدا کا نغمہ سنائی دے۔ وہ ہر واقعہ اور ہر تجربہ سے اپنے لیے ربانی سبق لیتا رہے۔ آدمی جب اس طرح خدا کو یاد کرنے لگتا ہے تو اس کا ذہن خدا کی حقیقتوں کے بارہ میں جاگ اٹھتا ہے۔ اس کے اندر صحیح اور غلط کا شعور پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر ایک قسم کا ذہنی روک یا نفسیاتی قلعہ بن جاتا ہے جس کے اندر وہ شیطان سے محفوظ ہو کر رہ سکے۔ جو آدمی اس طرح اللہ کی یاد میں جینے لگے اس پر قابو پانا شیطان کے لیے ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues

Printed page