Al-Risala · November 1992 · page 12

پہلے آپ

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱۲

پہلے آپ

ڈاکٹر سوجات موکو انڈونیشیا کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیسر تھے ۔ وہ جکارتا یونیورسٹی میں ایک علمی موضوع پر لکچر دے رہے تھے ۔ عین لکچر کے دوران ان پر دل کا دورہ پڑا ۔ وہ اسٹیج ہی پر گر پڑے اور اسی وقت وفات پا گئے۔ ۔ وہ پہلے ایشیائی تھے جو اقوام متحدہ کی امن یونیورسٹی (ٹوکیو) کے پریذیڈنٹ مقرر ہوئے ۔ انھوں نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں :

Prof Dr. Soedjatmoko, one of the leading intellectuals of Indonesia while delivering a lecture at a University campus, in Jogjakarta, had a heart attack, collapsed and expired. He was the first Asian to become the President of UN’s Peace University in Tokyo. He has written a number of books. ڈاکٹر سوجات موکو کا کیس موجودہ دنیا میں ہر آدمی کا کیس ہے ۔ پریس اور میڈیا اور پلیٹ فارم کے ظہور نے ہر آدمی کو بولنے کے لامتناہی مواقع دیئے ہیں ۔ ہر آدمی صبح و شام بولنے میں مصروف ہے ۔ آج ہر آدمی دوسروں کو سنارہا ہے ۔ حالاں کہ خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے ہر آدمی کی طرف آرہے ہیں تاکہ اس کو لے جاکر وہاں کھڑا کر دیں جہاں اس کو صرف سننا ہے ، سنانے کا موقع آخری طور پر اس کے لیے ختم ہو چکا ہے ۔

علم لفظوں سے واقفیت کا نام نہیں ہے بلکہ معانی سے واقفیت کا نام ہے ۔ اس دنیا میں سب سے بڑا کام بولنا نہیں ہے بلکہ سب سے بڑا کام چپ رہنا ہے ۔ یہاں اصل اہمیت اظہار رائے کی نہیں ہے بلکہ اظہار رائے سے پہلے سوچنے کی ہے ۔

بولنے والا حقیقۃ وہ ہے جو اپنے آپ سے بولے ۔ بتانے والا وہ ہے جو اپنے دماغ کو سوچنے میں لگائے ہوئے ہو ۔ دوسروں کو نصیحت کرنے والا وہ ہے جو دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے اپنے آپ کو نصیحت کرے ، جو دوسروں کو مخاطب کرنے سے پہلے اپنا مخاطب خود بن جائے ۔ جو دوسروں پر بلڈوزر چلانے کا نعرہ لگانے سے پہلے خود اپنی ذات پر بلڈوزر چلا چکا ہو ۔ دوسروں کو مخاطب کرنا سب سے آسان کام ہے اور اپنے آپ کو مخاطب کرنا سب سے مشکل ۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس راز کو جانتے ہوں ۔

12 البلاغ - نومبر ۱۹۹۲

‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues

Printed page