زندگی کا المیہ
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱۳
زندگی کا المیہ
مسٹر ستیہ جیت رے (Satyajit Ray) مئی ۱۹۲۱ میں کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے فلمی صنعت کو اپنا میدان کار بنایا۔ اس میدان میں انہوں نے اتنی ترقی کی کہ ان کو ماسٹر آف انڈین سینما کہا جانے لگا۔ چالیس سال تک وہ فلمی دنیا پر چھائے رہے۔ ۲۲ اپریل ۱۹۹۲ کو کلکتہ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ٹائم میگزین (۴ مئی ۱۹۹۲) نے ان کو ماسٹر فلم میکر کہا ہے۔ اپنی اعلیٰ کارکردگی کو ثابت کرنے میں مسٹرستیہ جیت رے کو اپنی عمر کے ۷۱ سال صرف کرنے پڑے۔ آخر کار وہ وقت آیا کہ انہیں ممتاز انعامات دے کر ان کا اعتراف کیا جائے موت سے صرف ایک ماہ پہلے ان کو ملک کے اعلیٰ ترین اعزاز "بھارت رتن" سے سرفراز کیا گیا۔ مگر اس وقت وہ اس قابل نہ تھے کہ اعزاز کی تقریب میں شرکت کے لیے کلکتہ سے دہلی کا سفر کریں۔ اسی طرح امریکہ کی اکیڈمی آف موشن پکچرز کا عالمی انعام اوسکر ایوارڈ (Oscar Award) دینے کے لیے ان کا انتخاب کیا گیا۔ مگر یہ بھی ان کی آخری عمر میں ہوا ۔ چنانچہ اس اعلیٰ انعام کو لینے کے لیے بھی وہ لاس اینجلس نہ پہنچ سکے ۔
ستیہ جیت رے کی موت کے بعد ان کے بارہ میں ریڈیو اور ٹیلی وزن پر غیر معمولی پروگرام جاری کیے گئے۔ اخبارات نے کئی کئی صفحے کے تذکرے شائع کیے۔ دی اسٹیٹس مین (۲۴ اپریل ۱۹۹۲) نے اپنے ایڈیٹوریل میں ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا کہ یہ بڑی دردناک ستم ظریفی تھی کہ موت نے انڈیا کے ایک لائق ترین شخص کو عین اس وقت چھین لیا جب کہ وہ اپنی عظمت کے بہترین مقام پر تھے :
It was cruel irony that death should have snatched one of India's greatest talents at his finest moment of glory. دنیا میں آدمی پر مشقت عمل کر کے اپنا ایک مینار کھڑا کرتا ہے۔ مگر جب وہ اس کی چوٹی پر پہنچ جاتا ہے اور لوگ اس کا اعتراف کرنے لگتے ہیں، عین اس وقت موت اس کی کامیابیوں کی نفی کر دیتی ہے۔ پایا ہوا انسان اچانک ایک کھویا ہوا انسان بن جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues