Al-Risala · November 1992 · page 32

سفر نامه - ۴۰

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۲

ایک بار میں قاہرہ کی ایک سڑک سے گزر رہا تھا۔ سڑک کے کنارے ایک طرف وسیع میدان اور اونچا پنڈال نظر آیا۔ ہمارے مصری رفیق محمد کمال صاحب نے بتایا کہ یہی وہ میدان ہے جہاں ۸ اکتوبر ۱۹۸۱ کو عرب۔ اسرائیلی جنگ (اکتوبر ۱۹۷۳) کی یاد میں ملٹری پریڈ ہو رہی تھی اور سابق مصری صدر انور السادات اپنے رفقار کے ساتھ پنڈال پر بیٹھے ہوئے تھے۔ عین اس وقت فوج کا ایک جوان اپنی صف سے نکلا اور تیزی سے گولی مار کر انہیں ہلاک کر دیا۔

انور السادات کا قاتل ایک مصری نوجوان خالد اسلامبولی تھا۔ وہ الاخوان المسلمون کی تحریک سے متاثر ہوا۔ وہ انور السادات کے سخت خلاف تھا۔ مقدمۂ قتل کے دوران جج نے اس سے کہا کہ تمہارے اوپر انور السادات کے قتل کا الزام ہے۔ اس نے کہا کہ ہاں، میں نے ہی اس فرعون کو قتل کیا ہے۔ عدالتی فیصلہ کے تحت ۶ مارچ ۱۹۸۲ کو خالد اسلامبولی کو قتل کر دیا گیا۔

خالد اسلامبولی کی ماں سے ایک عربی جریدہ نے انٹرویو لیا تھا۔ اس انٹرویو میں خالد اسلامبولی کی ماں نے بڑے ہی جذباتی انداز میں ایک ایک سوال کا جواب دیا تھا۔ اس انٹرویو کا ایک جز یہ ہے : (ام خالد نے کہا) خالد سے جب پہلی بار سجن حربی میں میری ملاقات ہوئی تو اس وقت اس کے خلاف قتل کا کیس شروع ہو چکا تھا اور اس دن مقدمۂ قتل کی سماعت کا دوسرا دن تھا۔ ہال میں داخل ہو کر میں تیزی سے چلتی ہوئی خالد کے پاس پہنچ گئی۔ خالد اس وقت عدالت کے مخصوص کٹہرے میں کھڑا ہوا تھا۔ وہ بالکل مطمئن تھا۔ اس نے میری پریشانی کو محسوس کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ قول دہرایا جو آپ نے مکہ میں یاسر کے خاندان کو عذاب میں مبتلا دیکھ کر فرمایا تھا : صبراً آلُ يَا سِرِ مَو عِدُكُمُ الجَنّة (آلِ ياسر ، صبر کرو کیوں کہ تمہارے لیے جنت کا وعدہ ہے) یہ حسن اتفاق کی بات ہے کہ خالد کی کنیت بھی ابو یاسر تھی۔

خالد اسلامبولی کی جرأت اور بے خوفی بلا شبہ ایک واقعہ ہے۔ مگر آل یاسر کی مثال ان کے اوپر چسپاں نہیں ہوتی۔ کیوں کہ آل یاسر کا معاملہ یک طرفہ تھا اور خالد اسلامبولی کا معاملہ دو طرفہ۔ آل یاسر نے ظلم کو برداشت کیا، اس کے باوجود ان پر سزا ڈھائی گئی۔ جب کہ خالد اسلامبولی کا معاملہ یہ ہے کہ انھوں نے ظلم کو برداشت نہیں کیا، اس لیے انہیں سزا دی گئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues

Printed page