سفر نامه - ۴۰
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۱
ان کا مشن یہ ہے کہ اپنے عقیدہ کی بنیاد پر عالمی حکومت قائم کریں۔ اور پھر خاتمہ میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ عنقریب وہ عظیم اسلامی حکومت قائم ہوکر رہے گی، خواہ شر کی طاقتیں چاہیں یا نہ چاہیں (دستقوم الخلافة الاسلامية لا محالة باذن الله شاءت قوي الشر ام أبت)
کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف کے نزدیک شاید اذنِ اللہ کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے ہمارے لئے ایسا ہونا مقدر کر دیا ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ اذنِ اللہ کا تعلق اصول سے ہے نہ کسی گروہ سے۔ اس سے مراد قانونِ فطرت ہے نہ کہ مسلم قوم۔
کتاب میں زور و شور کے ساتھ جاپان کی مثال دہرائی گئی ہے کہ وہ دوسری عالمی جنگ میں خاکستر ہوگیا اور پھر اٹھ کر وہ عالمی طاقت بن گیا۔ جب کہ مصر کے پاس امکانیات کی مقدار اس سے بہت زیادہ ہے۔ یہ حوالہ صحیح نہیں۔ کیوں کہ اہل جاپان نے اس طرح ترقی نہیں کہ ان کے یہاں خطیبوں اور انشا پردازوں کا ایک گروہ اٹھا اور اس نے عظمتِ ماضی کے اعادہ کے نام پر پر جوش الفاظ کا دریا بہانا شروع کر دیا۔ اس کے برعکس جاپان کے اہلِ فکر نے اپنی قوم کے اندر اعترافِ حقیقت کا مزاج پیدا کیا۔ انہیں اس پر راضی کیا کہ وہ امریکی اقتدار اور اس کے منصوبوں کو بلا بحث تسلیم کرلیں۔ وہ اس سے ٹکرائے بغیر اس کے حدود میں رہ کر خالص غیر سیاسی انداز میں اپنی پر مشقت تعمیر کریں۔ قرآن میں ہے کہ و جعلنا منهم ائمة يهدون بأمرنالماصبروا (السجدہ: ۲۴)
گویا اذنِ اللہ یہ ہے کہ اس دنیا میں صبر کرنے والے کو امامت کا منصب دیا جاتا ہے۔ مسلمان صبر کو حذف کرکے قیادت کے منصب پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور خدا کی دنیا میں کبھی ایسا ہونے والا نہیں۔
قاہرہ سے ایک عربی روز نامہ الشعب نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ ۱۵ ربیع الاول ۱۴۱۴ھ میں ڈاکٹر محبوب عمر کے قلم سے ایک مضمون تھا۔ اس کا عنوان تھا : المشكلة هي اسرائيل۔ یہی اس وقت عالم اسلام کے اہلِ فکر کا عام مزاج ہے۔ وہ اسرائیلی اور غیر اسرائیلی سازشوں کو مسلمانوں کا اصل مسئلہ سمجھتے ہیں۔ مگر اس قسم کا طرزِ فکر قرآن کی تردید کے ہم معنی ہے۔ قرآن کے مطابق مسلمانوں کی اصل مشکل یا ان کا اصل مسئلہ ان کی داخلی کمیاں ہیں نہ کہ خارجی دشمن کی سازشیں۔ لیکن مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے اپنے بے فائدہ کلام سے مسلمانوں کو اس فرضی وہم سے نکلنے نہیں دیتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues